پنجاب میں تاریخی ریسکیو آپریشن، مریم نواز بڑے ریلیف پیکج کا اعلان کریں گی، عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پنجاب اس وقت شدید سیلابی صورتحال سے دوچار ہے، جس سے جنوبی پنجاب کے عوام سب سے زیادہ متاثر ہیں، اس ضمن میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز جلد ایک بڑے ریلیف پیکج کا اعلان کریں گی۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ مون سون کا سلسلہ 4 ماہ سے تھمنے کا نام نہیں لے رہا اور دریاؤں کے ساتھ ساتھ اربن فلڈنگ نے بھی عوام کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے سیلاب متاثرین کو کتنے لاکھ روپے دیے جائیں گے؟ ریلیف کمشنر نے بتا دیا
’پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن جاری ہے جس میں 4335 موضع جات متاثر ہوئے، 42 لاکھ افراد متاثر اور 21 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، جبکہ 15 لاکھ مویشی بھی دوسری جگہ منتقل کیے گئے۔‘
صوبائی وزیر اطلاعات کے مطابق 18 لاکھ ایکڑ زرعی اراضی زیرِ آب آگئی اور 1543 مویشی ہلاک ہوئے، انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز رات گئے تک جلال پور میں ریسکیو آپریشن کی نگرانی کرتی رہیں جبکہ ملتان اور دیگر علاقوں میں ہزاروں افراد کو ڈرونز اور دیگر ذرائع سے ریسکیو کیا گیا۔
مزید پڑھیں: سیلاب: پنجاب میں چاول کی فصل کس قدر متاثر ہوئی؟
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی قلت ایک سنگین مسئلہ ہے جبکہ ڈینگی بھی پھیلنے کا خدشہ ہے، ان کا کہنا تھا کہ سیلاب کے بعد اسٹرکچرل اور لیگل ریفارمز ناگزیر ہیں اور مریم نواز اس حوالے سے منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔
انہوں نے بھارتی پنجاب میں ہونے والے نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سنہرا پنجاب جو پورے بھارت کو کھلاتا ہے، وہاں بھی زبردست تباہی آئی ہے، ہم ان سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں آپ کو کس قسم کی مدد چاہیے؟
گجرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سیوریج کے نام پر اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود وہاں کوئی نظام موجود نہیں، اگر 2 بار وزیر اعلیٰ اور اسپیکر بننے کے باوجود گجرات کا سیوریج سسٹم نہ بن سکا تو انہیں شرم آنی چاہیے۔
عظمیٰ بخاری نے اعلان کیا کہ ن لیگ گجرات میں 16 ارب روپے سے زائد لاگت کا سیوریج منصوبہ مکمل کرے گی۔
مزید پڑھیں: تباہ کن بارشیں اور سیلاب، اقوام متحدہ کا پاکستان میں غذائی بحران اور مہنگائی کا انتباہ
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کسی سے بلیک میل نہیں ہوتیں، گندم ذخیرہ اندوزی کی اجازت نہیں دی جائے گی، جو گندم پکڑی جائے گی اسے مارکیٹ میں لا کر قیمتیں کم کی جائیں گی، ان کا کہنا تھا کہ روٹی کی قیمت میں اضافہ پر وزیر اعلیٰ کا رد عمل ’زیرو ٹالرنس‘ پر مبنی ہے۔
سیاسی معاملات پر بات کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ سیلاب اور ریلیف کے بجائے جیل اور اڈیالہ کی بات کی جارہی ہے،علیمہ خان کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مکافاتِ عمل بہت خوفناک چیز ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب عظمیٰ بخاری مریم نواز شریف وزیر اطلاعات وزیر اعلیٰ پنجاب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: مریم نواز شریف وزیر اطلاعات وزیر اعلی پنجاب وزیر اطلاعات کرتے ہوئے وزیر اعلی مریم نواز نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ