Express News:
2026-07-24@05:08:46 GMT

جنوبی وزیرستان میں زلزلے سے اسکول کی شدید نقصان

اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT

جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں آنے والے زلزلے سے سرکاری اسکول کو نقصان پہنچا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق جنوبی وزیرستان کے علاقہ وانا میں زلزلے سے گورنمنٹ ہائی اسکول وانا کی چار دیواری منہدم ہو گئی تاہم  طلباء اور اساتذہ غیر محفوظ رہے۔

حال ہی میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں گورنمنٹ ہائی اسکول وانا جنوبی وزیرستان لوئر کی 190 فٹ طویل باؤنڈری وال زمین بوس ہوئی، جس کے باعث اسکول کے ہاسٹل میں مقیم طلباء اور اساتذہ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

طلباء کا کہنا ہے کہ چار دیواری نہ ہونے کے باعث وہ کمروں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں اور خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر باؤنڈری وال کی مرمت کی جائے تاکہ تعلیمی ماحول بحال ہو سکے۔

اسکول کے پرنسپل غلام حسین وزیر کے مطابق واقعے کی اطلاع زلزلے کے دن ہی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور ضلعی انتظامیہ کو دے دی گئی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ چار دیواری  نہ ہونے سے تعلیمی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں، اور طلباء و اساتذہ کی سیکیورٹی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

انہوں نے متعلقہ حکام سے پرزور اپیل کی کہ فوری طور پر چار دیواری کی دوبارہ تعمیر شروع کی جائے تاکہ طلباء کو محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جنوبی وزیرستان چار دیواری

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی