بھارتی کپتان کو محسن نقوی، سلمان آغا سے ہاتھ ملانا مہنگا پڑگیا، غدار قرار دے دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
بھارتی کپتان سوریا کمار یادیو کو صدر ایشین کرکٹ کونسل محسن نقوی اور پاکستانی کپتان سلمان علی آغا سے ہاتھ ملانے پر غدار قرار دے دیا گیا۔
ایشیا کپ 2025 کی ٹرافی کی رونمائی اور کپتانوں کی پریس کانفرنس کے موقع پر سوریا کمار یادیو نے محسن نقوی اور سلمان علی آغا سے مصافحہ کیا جس کی تصاویر وائرل ہوگئیں۔
تصاویر وائرل ہوتے ہی بھارتی شدت پسندوں نے سوریا کمار یادیو کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔
ایک صارف نے لکھا کہ ’دیش یہ غداری کبھی نہیں بھولے گا‘۔
Ye gaddari desh kabhi nahi bhulega Suryakumar Yadav aur BCCI.
ایک صارف نے نام نہاد آپریشن سندور کے نام پر پڑنے والی مار کو یاد کرتے ہوئے لکھا کہ ’یہ ہمارے دشمنوں سے ہاتھ ملارہے ہیں، مجھے نہیں معلوم یہ شیشے میں اپنی شکل کیسے دیکھتے ہوں گے ‘۔
Captain Suryakumar Yadav handshake with Pakistan's interior minister Mohsin Naqvi who recently given India a threat after Operation Sindoor.
I don't know how these people see their faces in mirror. They kill our innocent people & here we are handshaking with them. Shameful!! pic.twitter.com/QXZCHpMmcb
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔