پاک-بھارت کشیدہ تعلقات کے دوران 67 پاکستانی قیدیوں کی بھارتی جیلوں سے رہائی
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
لاہور:
پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باوجود بھارت نے 67 پاکستانی قیدی رہا کر دیے ہیں، جنہیں اٹاری-واہگہ بارڈر پر پاکستانی حکام کے حوالے کیا گیا، جن میں 53 ماہی گیر اور 14 سول قیدی شامل ہیں جو کئی برسوں سے مختلف جیلوں میں قید تھے۔
بھارت میں قائم پاکستان کے ہائی کمیشن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ 48 ماہی گیروں سمیت 67 پاکستانی شہری اٹاری-واہگہ باڈر کے ذریعے پاکستان پہنچے۔
بیان میں کہا گیا کہ 67 قیدیوں میں 19 عام شہری اور 48 ماہی گیر شامل ہیں۔
پاکستانی ہائی کمیشن نے بتایا کہ قیدیوں کی وطن واپسی کے عمل کی سہولت کاری کے لیے پاکستان ہائی کمیشن دہلی کے عہدیدار موقع پر موجود رہے۔
مزید بتایا گیا کہ حکومت پاکستان بھارتی جیلوں میں قید تمام پاکستانیوں کی رہائی کے لیے سرگرم عمل رہے گی۔
67 ???????? prisoners(19 civilian prisoners and 48 fishermen) were repatriated via Attari-Wagah border, today.
بھارت سے رہا ہو کر واپس آنے والے ان قیدیوں کا تعلق زیادہ تر کراچی سمیت سندھ کے ساحلی علاقوں سے بتایا جا رہا ہے، رہائی پانے والوں میں کئی ایسے افراد شامل ہیں جو مچھلیاں پکڑتے ہوئے سمندری حدود کی خلاف ورزی پر گرفتار ہوئے تھے، بھارت سے رہا ہو کرآنے والے 21 قیدی گجرات، ایک راجستھان، 39 پوربندر سے، حیدرآباد اور لدھیانہ سے ایک ایک اور چار قیدی امرتسر کی جیل میں تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ بھارتی جیلوں میں قید ایسے پاکستانی جن کی سزائیں مکمل ہوچکی ہیں ان کی رہائی کے لیے بھی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور بھارت کے درمیان قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ
بھارتی جیلوں سے پاکستانی قیدیوں کی رہائی کا عمل ایسے وقت میں ہوا ہے جب دونوں ملکوں کے تعلقات کشیدہ ہیں۔
کراچی سے تعلق رکھنے والے ماہی گیر کے متعلق بتایا گیا کہ وہ 19 برس کی عمر میں ساتھیوں سمیت سمندر میں مچھلی پکڑنے گئے تھے جہاں انہیں بھارتی فورس نے گرفتار کرلیا تھا، وہ 15 لوگ تھے جن میں دو کی بھارتی جیل میں ہی موت ہوگئی تھی تاہم 19 برس کی عمر میں قید ہونے والے ماہی گیر کو والد سمیت رہائی مل گئی ہے اور وہ واپس پاکستان پہنچ گئے ہیں لیکن ان کے کئی ساتھی اب بھی بھارتی جیلوں میں قید ہیں۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق سیکیورٹی کلیئرنس اور تفتیش کے بعد ان شہریوں کو ان کے گھروں کو روانہ کردیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت سے پانچ پاکستانی قیدی سزا پوری کرکے وطن واپس پہنچ گئے
واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت نے یکم جولائی 2025 کو ایک دوسرے کے ساتھ ایک دوسرے ملک کے قیدیوں کی فہرست کا تبادلہ کیا تھا جس کے مطابق پاکستان میں بھارتی قیدیوں کی تعداد 246 تھی جن میں 53 سول قیدی اور 193 ماہی گیر شامل تھے جبکہ بھارت نے پاکستان کو 463 قیدیوں کی فہرست بھجوائی تھی، جن میں 382 سول قیدی اور 81 ماہی گیر بتائے گئے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستانی قیدی جیلوں میں قید بھارتی جیلوں قیدیوں کی ماہی گیر
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔