مودی حکومت پر واشنگٹن کا اعتماد ختم ہوگیا، چائنہ ڈیلی کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
چائنہ ڈیلی کی ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی حکومت کی خارجہ پالیسی میں دوغلا پن، توازن کے فقدان اور غیر مستقل مزاجی امریکہ اور بھارت کے تعلقات میں دراڑ کا باعث بن رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ اور بھارت کے تعلقات اب نشیب و فراز کا شکار ہیں۔ قلیل مدت میں تعلقات میں وقتی بہتری آ سکتی ہے لیکن طویل مدت میں باہمی اعتماد متزلزل ہو چکا ہے۔ تجزیے کے مطابق دونوں ممالک کا دو طرفہ تعاون محض سطحی حد تک محدود رہنے کا امکان ہے۔
چائنہ ڈیلی نے کہا کہ بھارت کی روس کے ساتھ دیرینہ اسٹریٹجک وابستگی بھی واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات کی مضبوطی میں رکاوٹ ہے۔ بھارت ایک طرف امریکہ سے قریبی تعلقات کا دعویٰ کرتا ہے جبکہ دوسری جانب روس سے اسلحہ اور تیل کی درآمدات جاری رکھے ہوئے ہے، جو امریکی پالیسی کے خلاف ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ چین کے ساتھ جاری سرحدی کشیدگی کے باوجود بھارت کھل کر مؤقف اختیار کرنے سے گریز کرتا ہے، حتیٰ کہ کواڈ (QUAD) اتحاد میں بھی اس کا رویہ محتاط رہا ہے۔ یہ طرزِ عمل امریکہ میں مایوسی کا باعث بنا ہے۔
چائنہ ڈیلی کے مطابق بھارت کی خارجہ پالیسی صرف اپنے محدود قومی مفاد تک محدود ہے اور اگر مودی حکومت نے اپنی حکمتِ عملی پر نظرثانی نہ کی تو امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات طویل مدت میں برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چائنہ ڈیلی
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :