گرین لینڈ میں ڈنمارک اور اتحادیوں کی بڑی فوجی مشق کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
کوبن ہیگن : ڈنمارک نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر گرین لینڈ میں ایک بڑی فوجی مشق Arctic Light 2025 کا آغاز منگل سے کر رہا ہے، جس کا مقصد ڈنمارک کی افواج اور نیٹو (NATO) کی آپریشنل تیاری کو مزید بہتر بنانا ہے، یہ مشق 19 ستمبر تک جاری رہے گی۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کےمطابق ڈنمارک کی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے کہاکہ آرکٹک خطے میں بڑھتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر ڈنمارک نے اپنی فوجی موجودگی اور سرگرمیوں میں اضافہ کیا ہے، یہ تمام اقدامات Joint Arctic Command کی قیادت میں اور گرین لینڈ کی حکومت کے ساتھ تعاون سے کیے جا رہے ہیں۔
وزارت دفاع نے بتایا کہ اس مشق کا بنیادی مقصد گرین لینڈ، ڈنمارک اور نیٹو کے لیے شمالی بحرِ اوقیانوس اور آرکٹک خطے میں پیدا ہونے والے غیر مستحکم خطرات کے خلاف مشترکہ ردعمل کی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔ اس دوران ڈنمارک کی افواج فرانس، جرمنی، سویڈن اور ناروے کی افواج کے ساتھ مل کر تربیت کریں گی۔
وزارت دفاع کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس مشق میں 550 سے زائد فوجی شریک ہوں گے۔ ڈنمارک کی جانب سے فرگیٹ جہاز نِیلس جویل، دو EH-101 ہیلی کاپٹرز، دو F-16 لڑاکا طیارے اور تینوں افواج کے مختلف یونٹس بشمول اسپیشل آپریشن فورسز اور ڈینش ہوم گارڈ حصہ لیں گے، اس کے علاوہ مشق میں اتحادی ممالک کی شمولیت بھی نمایاں ہوگی۔
انہوں نے مزید کہاکہ فرانس اپنی نیوی کے جہاز FS Garonne، ایک ملٹی رول ٹینکر ایئرکرافٹ اور ماؤنٹین انفنٹری یونٹس کے ساتھ شریک ہوگا، جو ڈرون ٹیکنالوجی سے لیس ہیں۔ سویڈن اور ناروے کی ہوم گارڈ فورسز بھی اس مشق میں حصہ لیں گی، جبکہ جرمنی کی جانب سے آبزرور ٹیم اور اسٹاف پرسنل موجود ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: گرین لینڈ ڈنمارک کی کے ساتھ
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔
سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔