Express News:
2026-07-24@07:34:02 GMT

میرے بھائی، میرے پیارے بھائی

اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT

وہ ساری خبریں بلکہ خوش خبریاں اور مژدہ ہائے جاں فزا اور روح افزا تو آپ نے سن لی ہوں گی اور سن اور پڑھ رہے ہوں گے کہ کس طرح ہمارے وزیرخارجہ جو نائب وزیراعظم بھی ہیں، بنگلہ تشریف لے گئے ۔

مل گئے جب وہ گلے،سارے گلے جاتے رہے

اس مبار ک ملن پر اپنے دانا دانشور اپنے گھوڑے خوب خوب دوڑا رہے ہیں اور اس مبارک ملن کو ہر ہر زاویے سے مبارک خیز،مسرت خیز اور ولولہ خیز قرار دے رہے ہیں بلکہ بین السطور میں یہ خوش خبری بھی جھلکیاں دے رہی ہے کہ دونوں پیارے ایک مرتبہ پھر ایک دوسرے کے پیارے ہوجائیں گے۔ پھر وہی پہلی سی بہاریں ہوں گی، دراصل پاکستان کی آب وہوا میں کچھ ایسی تاثیر ہے کہ یہاں کے لوگوں کی قریب کی بینائی ازحد کمزور بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے لیکن دور کی بینائی تارے دکھاتی رہتی ہے۔

اندازہ اس سے لگائیں کہ ہر پاکستانی کو دوسرے کی ساری غلطیاں دکھائی دیتی ہیں اور اپنی ایک بھی نہیں۔اور ہر وقت دوسروں کی رہنمائی پر کمربستہ رہتا ہے۔ ثبوت کے طور پر دانا دانشور قلم کاروں کی تحریریں، جلسوں جلوسوں میں تقریریں اور چینلوں پر تجزیات کی نہریں دیکھیے۔اب اتنے بڑے بڑے نقاروں کے بیچ ہم کیا اور ہمارا نحیف ونزار طوطا کیا؟اس لیے ہم اس واقعہ پر تو کچھ نہیں کہیں گے البتہ آپ کو قصے کہانیاں سناسکتے ہیں۔

کہتے ہیں کچھ لوگ سفر پر نکلتے تھے، ایک لق ودق بیابان سے گزر ہوا تو سخت بھوک لگی، پاس تو کھانے کو کچھ نہ تھا لیکن آس پاس بھی کھانے کی کوئی چیز نہیں تھی، اس لیے بھوک اور تھکن سے نڈھال ہوکر ایک درخت کے سائے میں بیٹھ گئے، قسمت اچھی تھی کہ تھوڑی دیر بعد وہاں سے ایک ایسے شخص کا گزر ہوا جس نے گدھوں پر ’’مولیاں‘‘ لادی ہوئی تھیں۔ انھوں نے مولیاں مانگیں تو اس نے ایک پورا گھٹا اتار کر دے دیا۔

  ان کی عید ہوگئی، جی بھر مولیاں کھائیں اور وہیں پڑے رہے۔تھوڑی دیر بعد وہاں سے ایک قافلہ گزرا تو قافلے والوں نے بہت ساری کھانے کی چیزیں انھیں دے دیں، روٹیاں،گوشت،چاول پھل وغیرہ۔یہ لذیذ مرغن چرغن نعمتیں ٹھونس کر وہ پھولے نہیں سمائے۔چلتے وقت ایک کی نگاہ مولیوں کے قتلوں پر پڑی تو حقارت سے لات مارکر سارے قتلے بکھیر دیے اور بولا، ہونہہ مولیاں آخ تھو۔پھر ان میں سے ایک نے مولیوں کے قتلوں پر ’’جواب چائے‘‘ کیا۔ یہ’’جواب چائے‘‘ کا لفظ افغان مہاجروں سے ہم نے سیکھا ہے۔

ایک نے مولیوں کے قتلوں پر جواب چائے کیا تو دوسرے کیسے پیچھے رہتے۔دو دن بعد اپنا جو کچھ بھی کام تھا، وہ کرکے یا نہ کرکے واپس ہوئے تو پھر وہی بھوک ۔ اتفاق سے اسی پیڑ کے سائے پہنچے اور بیٹھ گئے۔ مولیوں کے قتلوں وہیں پڑے تھے، سوکھ کر خراب ہوچکے تھے۔ وہ سب ان قتلوں کو دیکھتے رہے، سوچتے رہے، بھوک سے لڑتے رہے۔آخر ان میں سے ایک اٹھا، قتلوں کے پاس گیا اور دیکھتا رہا۔پھر ایک قتلہ اٹھا کر بولا، میرا خیال ہے چھینٹے اس پر نہیں پڑے ہیں اور قتلے کو منہ میں ڈال کر چبانے لگا۔

ایک اور نے بھی کولمبس بن کر ایسے قتلے دریافت کر لیے جن پر چھینٹے نہیں پڑے تھے۔اب باقی کیسے پیچھے رہتے، انھوں نے بھی ایسے قتلے دریافت کرنا شروع کردیے جن پر چھینٹے نہیں پڑے تھے اور تھوڑی دیر بعد وہاں مولیوں کا ایک بھی قتلہ باقی نہیں رہا۔ نہ جانے وہ قتلے کہاں چلے گئے تھے جن پر چھینٹے پڑے تھے، شاید ان کی غیرموجودگی میں وہ قتلے کہیں بھاگ گئے تھے اور ان کی جگہ تازہ تیار نئے نویلے اور پاک و صاف قتلے وہاں خود بخود آگئے تھے۔ایک اور کہانی دُم ہلانے لگی ہے، اس سے بھی سنتے چلیں۔

ایک شخص کے دو بیٹے تھے لیکن ان کی مائیں الگ الگ تھیں۔ ان میں جو پہلی بیوی سے تھا، شادی شدہ تھا اور اس کے کئی جوان بیٹے تھے چنانچہ باپ کے مرنے کے بعد اس نے سب کچھ قبضے میں کرلیا اور چھوٹے کو گھر سے بھی نکال دیا۔

چھوٹے نے بڑی منتیں سماجت کی کہ میں تمہارا بھائی ہوں لیکن بڑے نے حقارت سے اور اسے دھکے دے کر کہا۔کہاں کا بھائی کیسا بھائی تم تو میرے سوتیلے ہو۔مجبور ہوکر سوتیلا چلا گیا۔اور محنت مزدوری کرنے لگا۔ خدا نے اس کی محنت میں برکت ڈالی اور کچھ ہی عرصے میں امیر ہوگیا۔ادھر بڑے کے بیٹے مقروض ہوگئے۔پھر ایک دن وہ اپنے بیٹوں کو لے کر چھوٹے کے پاس گیا۔اور اس سے لپٹتے ہوئے بولا،میرے بھائی میرے پیارے بھائی۔۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ہیں اور پڑے تھے اور اس سے ایک

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف