بھارت میں مودی سرکار کی ناقص پالیسیوں سے جہاں برآمدی معیشت مفلوج ہو چکی ہے، وہیں بھارتی عوام بھی بے حال ہو چکے ہیں۔
 

بی جے پی کی کٹھ پتلی  مودی سرکار عملی اقدامات کے بجائے ’’سوا دیشی ‘‘ جیسے کھوکھلے سیاسی نعروں میں مصروف ہے۔ بھارتی جریدے دی وائر کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی درآمدی پالیسیوں نے بھارت کی محنت کش صنعتوں کو شدید بحران سے دوچار کر دیا ہے۔

دی وائر کے مطابق ٹیکسٹائل، چمڑے، جھینگا اور زیورات کی صنعتوں کو امریکی ٹیرف سے براہِ راست نقصان پہنچا ہے۔  بھارت کی مزدور برادری کے لاکھوں افراد اپنی نوکریاں کھونے کے خطرے میں ہیں۔ اس پس منظر میں مودی کا ’’سوادیشی‘‘ کا اعلان دراصل قوم پرستانہ جذبات کو ابھارنے کی کوشش ہے۔

رپورٹ کے مطابق ’’سوادیشی‘‘ کا نعرہ لگانے کے باوجود متاثرہ مزدور طبقے کے لیے کوئی فوری عملی حل سامنے نہیں آیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا عالمی معیشت میں خود انحصاری کا نعرہ اب بھی کوئی اثر رکھتا ہے۔ مقامی منڈی میں وہ قیمتیں موجود نہیں جن سے برآمدی صنعتوں کو سہارا مل سکے ۔

سابق گورنر ریزرو بینک آف انڈیا  رگھورام راجن  نے سوال اٹھایا  ہے کہ ’’ روسی تیل کی پالیسی سے اصل فائدہ کن کو ہو رہا ہے؟‘‘۔  کیا اس منافع کا کچھ حصہ ان مزدوروں کو دیا جانا چاہیےجو امریکی ٹیرف سے متاثر ہوئے ہیں؟۔  روسی تیل سے حاصل ہونے والے منافع سے متاثرہ مزدوروں کی مدد کیوں نہیں کی جاتی ؟۔

دی وائر کے مطابق  حکومت مزدوروں کو بچانے کے لیے امریکا سے مذاکرات کرے گی یا محض قوم پرستی کے نعروں پر انحصار ہے؟۔ امریکی ٹیرف  کے باعث بھارتی مزدور شدید مشکلات میں ہیں اور حکومت فوری ریلیف دینے میں ناکام ہے۔ مودی سرکار کا’’سوا دیشی نعرہ‘‘ صرف فریب اور عوام کو بہلانے کا ہتھکنڈا ہے ۔

مودی سرکار نے خود انحصاری کے نام پر بھارت کو معاشی تباہی اور عالمی  تنہائی میں دھکیل دیا ہے۔ مودی سرکار  کا نام نہاد ’’میڈ ان انڈیا‘‘ منصوبہ بھی ناکامی کی  بدترین مثال بن چکا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مودی سرکار کے مطابق

پڑھیں:

حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا

اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 23 جولائی 2026ء ) وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان کردیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا ہے۔ پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ جبکہ ڈیزل کی قیمت فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 62 پیسے اضافہ کر دیا گیا ہے، ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی۔

(جاری ہے)

نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 کے بعد ایک دن کیلئے ہوگا۔ یاد رہے وفاقی کابینہ نے پیٹرولیم مصنوعات کے لیے روزانہ قیمتوں کے تعین کا نیا نظام منظور کر لیا جس کے تحت اوگرا اب پیٹرول اور ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمتیں روزانہ جاری کرے گا۔ پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں گزشتہ سات کاروباری دن کی اوسط عالمی قیمت کے مطابق ہوں گی، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ کے حساب سے کیا جائے گا۔ قیمتوں کے اعلان کے لیے وزیراعظم یا وفاقی حکومت کی پیشگی منظوری درکار نہیں ہوگی جبکہ اوگرا بغیر وزیراعظم یا حکومت کی منظوری کے قیمتوں کا اعلان کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • وزیر تجارت سے کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف