یورپی منڈی بند ہوجانے کے بعد روس کا چین کو گیس بیچنے کا ‘پاور آف سائبیریا 2’ منصوبہ کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
روس کی سرکاری گیس کمپنی گیزپروم کے سربراہ الیکسی ملر نے دعویٰ کیا ہے کہ چین کے ساتھ نئی گیس پائپ لائن بچھانے پر معاہدہ طے پا گیا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق منصوبے کے کئی پہلو اب بھی غیر واضح ہیں۔ اس منصوبے کو ‘پاور آف سائبیریا 2’ کہا جا رہا ہے جو روس کے لیے یورپی منڈی کا متبادل بن سکتا ہے۔
یہ پائپ لائن 6 ہزار 700 کلومیٹر طویل ہوگی جو روس کے یامال کے گیس ذخائر سے منگولیا کے راستے چین تک پہنچے گی۔ دہائیوں تک روس انہی ذخائر سے یورپ کو گیس فروخت کرتا رہا لیکن یوکرین پر حملے کے بعد یورپ نے روسی گیس خریدنا کم کر دی اور 2027 تک اس پر مکمل انحصار ختم کرنے کا اعلان کیا۔ اسی پس منظر میں روس اپنی گیس کی برآمدات کو چین کی طرف موڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: روس-چین قربتیں، کیا دنیا، مغرب کے بغیر آگے بڑھنے کو تیار ہے؟
اس منصوبے کے ذریعے سالانہ 50 ارب کیوبک میٹر گیس چین کو فراہم کی جائے گی جبکہ یورپ کو ماضی میں 180 ارب کیوبک میٹر تک سپلائی کی جاتی تھی۔ یعنی یہ منصوبہ یورپ میں کھوئی گئی آمدنی کا صرف ایک حصہ ہی پورا کرسکے گا۔
اہم بات یہ ہے کہ معاہدے میں گیس کی قیمتوں اور پائپ لائن کی تعمیر کے اخراجات پر کوئی تفصیلات طے نہیں ہوئیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس اعلان کا مقصد زیادہ تر سیاسی ہے تاکہ روس اور چین اپنی قربت اور امریکا کے خلاف مشترکہ موقف کو نمایاں کرسکیں۔
یہ بھی پڑھیے: روسی تیل کی خریداری، ٹرمپ کی جانب سے بھارت پر مزید دباؤ کا اشارہ
ماہرین کے مطابق چین سخت شرائط اور کم قیمتوں پر گیس خریدنے کا خواہاں ہے اور یہی وجہ ہے کہ مذاکرات کئی برسوں سے سست روی کا شکار ہیں۔ اس وقت بیجنگ کے پاس گیس کے کئی متبادل ذرائع موجود ہیں اس لیے روس کو چین کی شرائط پر جھکنا پڑ رہا ہے۔
توانائی کے ماہرین یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ کیا چین کو واقعی ایک اور گیس پائپ لائن کی ضرورت ہے، کیونکہ وہ تیزی سے قابل تجدید توانائی، ہائیڈرو اور نیوکلئیر پاور کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس لیے امکان ہے کہ چین کے لیے گیس ایک ‘اچھی سہولت’ تو ہو، مگر ناگزیر نہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تجارت چین روس گیس یورپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چین گیس یورپ پائپ لائن رہا ہے
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس نفسیاتی حد سے اوپر پہنچی ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملے ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کی جاتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہے، کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔
ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کشیدگی آبنائے ہرمز تک پھیل گئی، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔