اسرائیلی حملے ریاستی دہشتگردی، بھرپور جواب دیں گے: قطری وزیراعظم کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
اسرائیلی حملے ریاستی دہشتگردی، بھرپور جواب دیں گے: قطری وزیراعظم کا اعلان WhatsAppFacebookTwitter 0 10 September, 2025 سب نیوز
دوحہ: قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی نے کہا کہ دوحہ پر اسرائیل کے حملے ریاستی دہشتگردی ہیں جس کا بھرپور جواب دیں گے۔
قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی نے اسرائیلی حملے کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ اسرائیلی حملے کے جواب کا حق محفوظ رکھتے ہیں، انہوں نے اسرائیل کو پیغام دیا کہ ان کا ملک اس واقعہ کو ہرگز نظر انداز نہیں کرے گا۔
شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی نے کہا کہ وہ محض بیانات اور مذمتوں سے آگے بڑھ کر ردعمل دینے کے تمام ذرائع بروئے کار لا رہے ہیں اور اس سلسلے میں ایک قانونی ٹیم بھی تشکیل دی جا رہی ہے تاکہ اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرایا جا سکے۔
قطری وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمارا یقین ہے کہ آج ہم ایک فیصلہ کن موڑ پر پہنچ گئے ہیں اور ایسے بربریت پر مشتمل اقدامات کے خلاف پورے خطے سے جواب آنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ پورے خطے کو انتشار کی جانب دھکیل رہا ہے اور اسرائیلی وزیراعظم پورےخطے کو افراتفری میں مبتلا کر رہے ہیں، انہوں نے بتایا کہ حملے کا وقت اس اجلاس سے جڑا تھا جس میں حماس کی مذاکراتی ٹیم امریکی تجاویز پر بات کر رہی تھی تاکہ غزہ جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچا جا سکے لیکن اسرائیل نے اس عمل کو سبوتاژ کر دیا۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ پر فضائی حملہ کرکے فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کی مرکزی قیادت کو نشانہ بنایا تھا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپرتشدد مظاہرے، نیپال میں فوج نے مختلف علاقوں میں پوزیشن سنبھال لی پرتشدد مظاہرے، نیپال میں فوج نے مختلف علاقوں میں پوزیشن سنبھال لی عدالتی فیسوں اور سکیورٹیز میں اضافے کے رولز معطل، 1980 کے قواعد بحال پوری امت مسلمہ حماس کے ساتھ کھڑی ہے، فضل الرحمان کی دوحا میں اسرائیلی حملے کی مذمت اسٹیٹ بینک کے مالی امور میں 243 ارب روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کا انکشاف پنجاب پولیس کی خاتون افسر نے عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کر دیا وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین کے وارنٹ گرفتاری جاریCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اسرائیلی حملے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔