پوری امت مسلمہ حماس کے ساتھ کھڑی ہے، فضل الرحمان کی دوحا میں اسرائیلی حملے کی مذمت WhatsAppFacebookTwitter 0 10 September, 2025 سب نیوز


اسلام آباد:مولانا فضل الرحمان نے قطر کے دارالحکومت دوحا میں اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوری امت مسلمہ حماس کے ساتھ کھڑی ہے۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کے عوام، جے یو آئی کی پوری قیادت اور کارکنان حماس کی قیادت پر قطر کے دارالحکومت دوحا میں کیے گئے بزدلانہ حملے کی سخت اور واضح الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ حملہ دراصل مسلم اور عرب دنیا کی خود مختاری پر حملہ ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حماس کی قیادت امریکی صدر کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی پیشکش پر بات چیت کے لیے جمع تھی کہ اس موقع پر یہ حملہ کیا گیا۔

سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ اس کارروائی میں مغربی فضائیہ کے انٹیلی جنس اور ایندھن بھرنے والے طیارے بھی استعمال ہوئے۔ تاہم اطلاعات کے مطابق حماس رہنما خالد مشعل سمیت دیگر قیادت کو نشانہ بنانے کی کوشش ناکام رہی۔

انہوں نے دعا کی کہ حماس کی تمام قیادت ہمیشہ محفوظ و سلامت رہے اور واضح کیا کہ امت مسلمہ فلسطینی عوام کے جائز مقصد کی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ او آئی سی فوری طور پر خالد مشعل اور دیگر رہنماؤں کو مکمل تحفظ فراہم کرے تاکہ وہ فلسطین اور مسجد اقصیٰ کی آزادی کی تحریک کی قیادت مؤثر انداز میں جاری رکھ سکیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہزاروں فلسطینی اپنی جانیں قربان کرچکے ہیں جب کہ غزہ اور مغربی کنارے کے مجاہدین قابض اسرائیلی افواج کو اب بھی زمینی محاذ پر بھاری نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اسرائیلی افواج اپنی کمزوری کے باعث صرف فضائی حملوں پر انحصار کرتی ہیں اور معصوم شہریوں، خواتین، بچوں اور بزرگوں پر بمباری کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مہینوں سے غزہ کے عوام خوراک اور پانی کی شدید ناکا بندی اور محاصرے کا سامنا کر رہے ہیں، جس کے باعث بھوک سے ہلاکتیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ مسلمان ممالک کی خاموشی اور بے عملی کی وجہ سے صورتحال روز بروز سنگین ہو رہی ہے۔

جے یو آئی کے سربراہ نے گلوبل صمود فلوٹیلا کے کارکنان کی بھی مکمل حمایت کا اعلان کیا جو تیونس میں جمع ہیں اور 50 سے زائد جہازوں کے قافلے کی قیادت کر کے غزہ کا محاصرہ توڑنے اور ضروری امداد پہنچانے کا عزم رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ شب اسرائیل نے ان پر بھی ڈرون حملہ کر کے حوصلہ شکنی کی کوشش کی، لیکن ہم واضح کرتے ہیں کہ خوراک اور پانی کا محاصرہ ختم کیا جائے کیونکہ یہ ایک کھلا جنگی جرم ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے اعلان کیا کہ ہم فلسطینی عوام کے ساتھ پہلے کی طرح ڈٹ کر کھڑے ہیں اور ہمارا عزم ہے کہ مسجد اقصیٰ اور فلسطین کو اسرائیل کے ناجائز قبضے سے آزاد کرایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جانے دی جائیں گی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرخیبر پختونخوا حکومت نے کم سے کم اجرت 4 ہزار روپے بڑھا کر40 ہزار روپے مقرر کر دی اسٹیٹ بینک کے مالی امور میں 243 ارب روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کا انکشاف سی پیک فیز ٹو پاکستان اور چین کے تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا نادر موقع ہے، عاطف اکرام شیخ پنجاب پولیس کی خاتون افسر نے عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کر دیا وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین کے وارنٹ گرفتاری جاری افغان سر زمین سے دہشتگرد ہمارے بچوں کے خون سے ہولی کھیلنے آتے ہیں: خواجہ آصف بھارت نے ستلج میں پھر پانی چھوڑ دیا، ہریکے اور فیروز پور انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: فضل الرحمان کے ساتھ حملے کی

پڑھیں:

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج

طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔

اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔

اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار