Daily Mumtaz:
2026-06-03@05:42:44 GMT

پاکستان میں لاکھوں شہریوں کے فون کالزکی نگرانی کا انکشاف

اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT

پاکستان میں لاکھوں شہریوں کے فون کالزکی نگرانی کا انکشاف

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں لاکھوں شہریوں کی فون کالز، پیغامات اور انٹرنیٹ سرگرمیاں نگرانی کے عمل سے گزرتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق عام افراد، صحافیوں اور سیاسی شخصیات سمیت متعدد افراد کی نگرانی کی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستانی ادارے بیک وقت40 لاکھ موبائل فونز کی نگرانی کی صلاحیت رکھتے ہیں، جبکہ ’’ڈبلیو ایم ایس ٹو‘‘ نامی ایک انٹرنیٹ فائر وال کے ذریعے 20 لاکھ سے زائد انٹرنیٹ سیشنز کو بلاک یا مانیٹر کیا جا سکتا ہے۔
ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ یہ دونوں نظام ایک ساتھ کام کرتے ہیں۔ ایک فون کالز اور میسجز تک رسائی دیتا ہے ، جبکہ دوسرا ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی رفتار کم یا مکمل بند کر دیتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹیلی کام کمپنیوں کو مبینہ طور پر(قانونی مداخلت کے انتظام کا نظام) ،(Lawful Intercept Management System) سے منسلک ہونے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ صارفین کی ڈیجیٹل سرگرمیوں پر نظر رکھی جا سکے۔
ایمنسٹی کے مطابق پاکستان میں اس وقت تقریباً 6.

5 لاکھ ویب لنکس بلاک ہیں، جبکہ یوٹیوب، فیس بک اور ایکس (سابقہ ٹوئٹر) جیسے پلیٹ فارمز پر بھی وقتاً فوقتاً پابندیاں لگائی جا رہی ہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس صورتحال کوشہری آزادیوں کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

 

Post Views: 4

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔

ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • پاکستان میں اس سال قربانی کے جانوروں کی کتنی کھالیں جمع ہوئیں؟ اعدادو شمار آگئے
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا