پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم کے ریجنل اینٹی ٹیررسٹ اسٹرکچر کی چیئرمین شپ سنبھال لی
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
پاکستان نے آج شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے ریجنل اینٹی ٹیررسٹ اسٹرکچر (SCO-RATS) کی چیئرمین شپ سنبھال لی۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق یہ اقدام رکن ممالک کے اس اعتماد کا مظہر ہے جو وہ پاکستان کی خطے میں امن و سلامتی کے لیے مخلصانہ کاوشوں اور بالخصوص دہشتگردی کے خلاف جدوجہد میں اس کے کردار پر رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شنگھائی تعاون تنظیم کے تیانجن اجلاس کی غیر معمولی اہمیت، ڈالر کا متبادل لانا کیا آسان عمل ہے؟
چیئرمین کی حیثیت سے پاکستان علاقائی تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے کام کرے گا، جو باہمی اعتماد، مساوات اور مشترکہ ذمہ داری کے “شنگھائی اسپرٹ” کے اصولوں کے مطابق ہوگا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان مختلف شعبوں میں اہم نوعیت کی سرگرمیوں اور تقاریب کی میزبانی کرے گا جن میں سائبر انسداد دہشت گردی، معلوماتی آپریشنز، سرحدی سلامتی، دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام اور استعداد کار میں اضافہ شامل ہیں۔
پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صفِ اول کا ملک ہے جس نے نہ صرف اپنے عوام بلکہ خطے اور دنیا کے تحفظ اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔
ترجمان کے مطابق بطور غیر مستقل رکن، پاکستان کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل 26-2025 کی مدت کے دوران انسداد دہشتگردی سمیت کئی اہم ذمہ داریاں بھی سونپی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایس سی او اجلاس پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی ہے، وزیراعظم محمد شہباز شریف
پاکستان اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اصولوں، بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی روشنی میں عالمی و علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر انسداد دہشتگردی کے لیے مشترکہ کوششوں کو آگے بڑھاتا رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews ایس سی او پاکستان چیئرمین شپ شنگھائی تعاون تنظیم علاقائی تعاون وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایس سی او پاکستان چیئرمین شپ شنگھائی تعاون تنظیم علاقائی تعاون وی نیوز شنگھائی تعاون تنظیم کے لیے
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔