قومی بیانیے کی تشکیل کیلئے قومی پیغام امن کمیٹی قائم، نوٹیفکیشن جاری WhatsAppFacebookTwitter 0 10 September, 2025 سب نیوز

اسلام آباد(سب نیوز)وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات نے قومی بیانیے کی تشکیل کے لیے قومی پیغام امن کمیٹی کے قیام کا نوٹی فکیشن جاری کردیا جس کے مطابق یہ قومی کمیٹی برائے تشکیل بیانیہ کی ذیلی کمیٹی ہوگی۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ قومی پیغام امن کمیٹی کو یہ ذمے داری دی گئی ہے کہ وہ انتہا پسندی، دہشت گردی، فرقہ واریت اور نفرت انگیز تقاریر کے خاتمے کے لیے قومی سطح پر متفقہ بیانیہ تیار کرے، کمیٹی کی سربراہی وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کریں گے۔کمیٹی میں مختلف مکاتب فکر کے جید علما، مشائخ، اقلیتوں کے نمائندگان اور متعلقہ وزارتوں کے اعلی حکام شامل کیے گئے ہیں، اراکین میں سینیٹر حافظ عبدالکریم، مفتی عبدالرحیم، علامہ عارف حسین واحدی، پیر نقیب الرحمان، علامہ محمد حسین اکبر اور ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی شامل ہیں۔
مولانا طاہر محمود کو کمیٹی کا کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا ہے جبکہ مولانا طیب پنج پیری اور علامہ ضیا اللہ شاہ بخاری بھی اراکین میں شامل ہیں۔اقلیتوں کی نمائندگی کے لیے بشپ آزاد مارشل، راجیش کمار ہرداسانی اور سردار رمیش سنگھ اروڑہ بھی کمیٹی میں شامل ہیں، اس کے علاوہ صوبائی و علاقائی پیغام امن کمیٹیوں کے کوآرڈینیٹرز، منظور شدہ مدارس بورڈز کے نمائندگان، وزارت داخلہ اور وزارت مذہبی امور کے ایڈیشنل سیکرٹریز کے ساتھ ساتھ ڈائریکٹر جنرل مذہبی تعلیمات (ڈی جی آر ای)بھی اس کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔نوٹی فکیشن کے مطابق وزارت اطلاعات و نشریات کے ڈائریکٹر جنرل انٹرنل پبلسٹی ونگ کمیٹی کے سیکرٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دیں گے۔کمیٹی اپنی پہلی میٹنگ میں تفصیلی ضوابط کار (ٹی او آرز)مرتب کرے گی اور بعد ازاں یہ ضوابط نیشنل کمیٹی آن نیریٹو بلڈنگ کی منظوری کے لیے پیش کیے جائیں گے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسینیٹر عرفان صدیقی کے نام پر اراکین قومی اسمبلی کو مالی فراڈ کا نشانہ بنائے جانے کا انکشاف سینیٹر عرفان صدیقی کے نام پر اراکین قومی اسمبلی کو مالی فراڈ کا نشانہ بنائے جانے کا انکشاف برطانیہ میں ڈیفنس اینڈ سیکیورٹی ایکوپمنٹ انٹرنیشنل ایکسپو 2025 میں شرکت کرنیوالے سعودی پویلین کا باضابطہ افتتاح وفاقی کابینہ کا اجلاس، سیلابی صورتحال کے پیش نظر کلائمیٹ ایمرجنسی اور زرعی ایمرجنسی کے نفاذ کی اصولی منظوری سپیکر قومی اسمبلی کا بڑا اقدام؛ سی ڈی اے کو پارلیمنٹ سے فارغ کر دیا گیا ملک کیخلاف پروپیگنڈا کرنے والے فتنے کا مکمل خاتمہ کرنا ہمارا اولین فرض ہے، وزیراعظم پرتشدد مظاہرے، نیپال میں فوج نے مختلف علاقوں میں پوزیشن سنبھال لی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: قومی پیغام امن کمیٹی

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار