قطر پر اسرائیلی حملہ، پورے مشرق وسطیٰ کے لیے پیغام، اسپیکر اسرائیلی پارلیمان
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں بڑے دھماکے رونما ہوئے، جن میں فلسطین کی سب سے بڑی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کی پوری اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیلی فوج نے تصدیق کی کہ یہ کارروائی طویل منصوبہ بندی کے بعد کی گئی اور اسے ’انتہائی درست آپریشن‘ قرار دیا۔
اسرائیلی قیادت کے بیاناتکنیسٹ اسپیکر عامر اوہانا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر دھماکے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے عربی زبان میں لکھا:
’یہ پورے مشرق وسطیٰ کے لیے ایک پیغام ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے اسرائیل نے حماس کے کن رہنماؤں کو نشانہ بنایا؟ کون شہید ہوا اور کون زندہ بچ نکلا؟
وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ یہ حملہ ’مکمل طور پر اسرائیل کا خود مختارانہ فیصلہ‘ تھا۔ اگرچہ اسرائیلی میڈیا نے اسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ’گرین لائٹ‘ سے جوڑا تھا، تاہم نتن یاہو کے دفتر نے واضح کیا کہ اسرائیل نے یہ کارروائی شروع کی، اسرائیل نے اسے مکمل کیا، اور اسرائیل ہی اس کی پوری ذمہ داری لیتا ہے۔
هذه رسالة لكل الشرق الأوسط pic.
— Amir Ohana – אמיר אוחנה (@AmirOhana) September 9, 2025
وزیر خزانہ بیزالیل سموٹریچ نے حملے کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’دہشتگرد‘ دنیا میں کہیں بھی ہوں، انہیں اسرائیل سے تحفظ نہیں مل سکتا۔
امریکا اور قطر کا ردعملامریکا: وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے تصدیق کی کہ اسرائیل نے یہ کارروائی کرنے سے پہلے امریکا کو اطلاع دی تھی، لیکن واشنگٹن نے اپنے آپ کو اس کارروائی سے بری الذمہ قرار دیا۔
قطر: وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے حملے کو بزدلانہ کارروائی اور بین الاقوامی قوانین و اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ قطر نے واضح کیا کہ یہ اقدام مذاکرات اور امن عمل کے لیے سنگین دھچکا ہے۔
یہ بھی پڑھیے قطر کی دوحا میں اسرائیلی حملے کی شدید مذمت
قطر برسوں سے اسرائیل اور حماس کے درمیان مذاکرات کا مرکز رہا ہے۔ حماس کی جلاوطن قیادت طویل عرصے سے دوحہ میں مقیم ہے۔
حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب صدر ٹرمپ نے حماس کو ’آخری وارننگ‘ دیتے ہوئے ایک سیز فائر معاہدے کی تجویز پیش کی تھی۔ حماس نے اس مسودے کو ’ذلت آمیز دستاویز‘ قرار دیا، تاہم جواب دینے کا عندیہ بھی دیا۔
اوہانا کا پرانا پیغامیہ پہلا موقع نہیں کہ عامر اوہانا نے ایسا بیان دیا ہو۔ 20 جولائی کو اسرائیل نے یمن کے الحدیدہ بندرگاہ پر حوثی حملوں کے جواب میں کارروائی کی تھی۔ اس وقت بھی اوہانا نے دھماکوں کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے یہی لکھا تھا:
’یہ پورے مشرق وسطیٰ کے لیے ایک پیغام ہے۔‘
دوحا پر حملہ قطر کی سرزمین پر اسرائیل کی پہلی براہِ راست کارروائی ہے۔ اس نے خطے میں جاری سفارتی اور جنگ بندی کی کوششوں پر گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسپیکر اسرائیلی پارلیمان قطر پر اسرائیلی حملہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: قطر پر اسرائیلی حملہ اسرائیل نے پر اسرائیل قرار دیا کے لیے
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔