حماس رہنماؤں پر حملہ: قطر کی پیشگی امریکی اطلاع کی تردید، حماس نے امریکا کو حملے کا ذمہ دار قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
دوحہ پر اسرائیلی فضائی حملے کے بعد امریکا اور قطر کے بیانات میں تضاد سامنے آ گیا ہے۔ قطر نے کہا ہے کہ اسے حملے سے پہلے آگاہ نہیں کیا گیا جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ دوحہ کو پیشگی اطلاع دی گئی تھی۔
قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ حکومت کو حملے سے پہلے آگاہ کرنے کا دعویٰ بالکل غلط ہے۔ امریکی اہلکار کی کال دھماکوں کے دوران موصول ہوئی۔ وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے اس حملے کو ریاستی دہشت گردی قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیے: اسرائیل کا قطر میں حماس قیادت پر حملہ، سینیئر رہنما خلیل الحیہ شہید
حملے میں حماس کے 5 ارکان ہلاک ہوئے جبکہ مذاکراتی ٹیم کے اہم رہنما محفوظ رہے۔ قطر کی وزارت داخلہ کے مطابق ایک قطری سیکیورٹی افسر بھی جاں بحق ہوا۔
حماس نے اس حملے کو مذاکرات سبوتاژ کرنے کی کوشش قرار دیا اور کہا کہ یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کسی معاہدے کے خواہاں نہیں اور دانستہ طور پر تمام کوششوں کو ناکام بنا رہے ہیں۔ ہم امریکی انتظامیہ کو بھی اسرائیلی جارحیت میں برابر کا شریک سمجھتے ہیں۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا کہ اسرائیل کا دوحہ پر یکطرفہ بمباری کرنا نہ اسرائیل اور نہ ہی امریکا کے مقاصد کو آگے بڑھاتا ہے۔ تاہم حماس کا خاتمہ ایک جائز ہدف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کو ہدایت دی تھی کہ وہ قطر کو حملے سے آگاہ کریں۔
صدر ٹرمپ نے بعد میں اپنے بیان میں کہا کہ انہیں حملے کی جگہ پر بہت افسوس ہے اور انہوں نے قطر کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ایسا دوبارہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ نیتن یاہو کا فیصلہ تھا میرا نہیں۔
یہ بھی پڑھیے: اسرائیلی مغویوں کو فوری رہا کیا جائے، ڈونلڈ ٹرمپ کی حماس کو آخری وارننگ
قطری امیری دیوان کے مطابق صدر ٹرمپ نے امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ٹیلیفون پر بات کی اور حملے کی مذمت کی۔ امیر قطر نے کہا کہ یہ حملہ قطر کی خودمختاری اور سلامتی پر کھلی جارحیت ہے، جو خطے کے استحکام کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ قطر اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔
خیال رہے کہ قطر نے ماضی میں نومبر 2023 میں جنگ بندی اور جنوری 2025 میں 6 ہفتے کی جنگ بندی کرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ واشنگٹن اور دوحہ دونوں کی جانب سے اس کردار کو سراہا گیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا حماس دوحہ غزہ قطر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل امریکا نے کہا کہ قطر کی
پڑھیں:
ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔
روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔
تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔
ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔
ایران جنگ پر سوالاتکانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔
جنگ کے معاشی اثراتایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا
ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقفمارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ
روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ
مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ