قطر کے دارالحکومت دوحا میں اسرائیلی فضائی حملے نے خطے میں سفارتی تناؤ کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ یہ حملہ داخلی سیکیورٹی ایجنسی “شن بیت” کے تعاون سے کیا گیا، جس کا ہدف حماس کی اعلیٰ قیادت تھی۔
یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب حماس رہنما امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پیش کردہ غزہ جنگ بندی منصوبے پر غور کے لیے اجلاس کر رہے تھے۔
اسی دوران غزہ میں تازہ ترین اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 35 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں امداد کے لیے قطار میں کھڑے 7 عام شہری بھی شامل ہیں۔ شہر کی ایک بلند رہائشی عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی، جس سے سینکڑوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
پاکستان نے قطر میں اسرائیلی حملے کو “غیر قانونی، اشتعال انگیز اور بزدلانہ فعل” قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ وزیر اعظم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ حملہ نہ صرف قطر کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے خطرہ بھی بن سکتا ہے۔
وزیراعظم نے قطر کی قیادت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کی حمایت میں ہمیشہ کی طرح ڈٹا رہے گا۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ٹیلی فونک رابطے میں قطر پر اسرائیلی حملے کو “مجرمانہ اور ناقابلِ قبول” قرار دیا۔
سعودی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا حملہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، جس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔ سعودی عرب اپنے تمام تر وسائل اور صلاحیتوں کے ساتھ قطر کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔”
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بغائی نے سرکاری ٹی وی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ قطر کی خودمختاری اور فلسطینی نمائندوں کی سلامتی پر حملہ ہے، جسے ایران کسی صورت برداشت نہیں کرے گا۔ یہ واقعہ خطے کے لیے ایک سنگین پیغام ہے۔”
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسا ملک ہے جو جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس پر حملہ ناقابل قبول ہے۔
انہوں نے تمام فریقین سے “مستقل جنگ بندی کے لیے سنجیدگی سے کام کرنے” پر زور دیا۔
قطری وزارتِ خارجہ نے حملے کو “بزدلانہ کارروائی” قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ ان رہائش گاہوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا جہاں حماس کے رہنما مقیم تھے۔ قطر نے تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے کہا ہے کہ “اس قسم کی جارحیت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی” اور مزید تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی۔
پس منظر: اسرائیلی قیادت کے حالیہ بیانات
یہ پیشرفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب چند روز قبل اسرائیلی فوج کے سربراہ نے بیرونِ ملک مقیم حماس رہنماؤں کو ہدف بنانے کی دھمکی دی تھی۔
اسی روز اسرائیلی وزیر خارجہ گدعون سار نے دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل نے امریکی جنگ بندی منصوبے کو قبول کر لیا ہے۔
دوحا میں قائم امریکی سفارت خانے نے بھی صورت حال کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے اہلکاروں اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر پناہ لینے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کرتے ہوئے کہا کے لیے

پڑھیں:

اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بشریٰ بی بی بلاول بھٹو زرداری پاکستان سعودی عرب سہیل آفریدی مریم نواز

متعلقہ مضامین

  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت