وزارت اطلاعات نے’’قومی پیغام امن کمیٹی‘‘ کے قیام کا اعلان کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
اسلام آباد: ملک میں امن، رواداری اور ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وزارت اطلاعات و نشریات نے’’قومی پیغام امن کمیٹی‘‘ کے قیام کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جو’’نیشنل کمیٹی برائے تشکیلِ بیانیہ‘‘ کی ایک ذیلی کمیٹی کے طور پر کام کرے گی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق یہ کمیٹی شدت پسندی، دہشت گردی، فرقہ واریت اور نفرت انگیز تقاریر کے خلاف ایک متفقہ قومی بیانیہ تیار کرے گی تاکہ ملک بھر میں فکری و مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔
کمیٹی کی سربراہی وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کریں گے، جب کہ اس میں تمام مکاتبِ فکر کے جید علمائے کرام، مشائخ، اقلیتی برادری کے نمائندے اور مختلف وزارتوں کے اعلیٰ حکام شامل ہوں گے۔
کمیٹی میں سینیٹر حافظ عبد الکریم، مفتی عبد الرحیم، علامہ عارف حسین واحدی، پیر نقیب الرحمان، علامہ محمد حسین اکبر، ڈاکٹر راغب حسین نعیمی، مولانا طاہر اشرفی، مولانا طیب پنج پیری، علامہ ضیاء اللہ شاہ بخاری شامل ہیں۔جبکہ اقلیتوں کی نمائندگی بشپ آزاد مارشل، راجیش کمار ہرداسانی، سردار رمیش سنگھ اروڑہ کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ صوبائی اور علاقائی پیغام امن کمیٹیوں کے کوآرڈینیٹرز منظور شدہ مدارس بورڈز کے نمائندے، وزارت داخلہ اور مذہبی امور کے ایڈیشنل سیکریٹریز، ڈائریکٹر جنرل مذہبی تعلیمات جبکہ وزارت اطلاعات کا ڈائریکٹر جنرل انٹرنل پبلسٹی ونگ کمیٹی کے سیکریٹری کے فرائض انجام دیں گے۔
جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی اپنی پہلی میٹنگ میں تفصیلی ضوابط کارترتیب دے گی، جنہیں بعد ازاں نیشنل کمیٹی برائے تشکیلِ بیانیہ کی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔یہ کمیٹی نہ صرف بیانیہ سازی کے عمل کو مضبوط بنائے گی بلکہ ملک میں برداشت، احترام اور قومی یکجہتی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔
نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔
ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔