شہریوں کیخلاف پیکا ایکٹ کے تحت 372 غیر قانونی مقدمات درج ہونے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
اسلام آباد:
شہریوں کے خلاف صوبوں میں پیکا ایکٹ کے تحت 372 غیر قانونی مقدمات درج ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں اراکین نے بتایا کہ پیکا ایکٹ میں تازہ ترین ترمیم کے بعد صوبے پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج نہیں کر سکتے۔
حکام این سی سی آئی اے کے مطابق پیکا ایکٹ 2025 کے بعد صوبوں میں درج ہونے والے مقدمات این سی سی آئی کو بھیجے جائیں گے۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ یہ تمام مقدمات غیر قانونی ہیں، اب ان کا کیا کریں۔ اراکین کمیٹی نے کہا کہ ہمارے سامنے بات آ گئی کہ یہ مقدمات غلط اور غیر قانونی ہیں۔
قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے صوبوں میں غیر قانونی مقدمات کے اندراج پر ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی۔
صحافیوں کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمات کی تفصیلات بھی قائمہ کمیٹی کو پیش کی گئی۔
حکام وزارت اطلاعات نے بتایا کہ پیکا ایکٹ کے تحت اسلام آباد میں 19 مقدمات درج کیے گئے ہیں، 19 مقدمات میں سے ایک بھی صحافیوں کے خلاف نہیں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پیکا ایکٹ میں تازہ ترین ترمیم کے بعد صوبے مقدمہ درج نہیں کر سکتے۔ تازہ ترین ترمیم کے بعد جو بھی مقدمات صوبوں میں درج کیے گئے وہ وفاقی ایجنسی کو بھیجے جائیں گے۔ این سی سی آئی اے نے 1214 مقدمات درج کئے ہیں جن میں سے 10 صحافیوں کے خلاف ہیں۔
حکام وزرات اطلاعات کے مطابق پیکا ایکٹ میں تازہ ترین ترامیم کے بعد 373 مقدمات صوبوں میں درج کیے گئے ہیں، دارالحکومت کے 19 مقدمات میں کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پیکا ایکٹ کے تحت مقدمات درج تازہ ترین کے خلاف کے بعد
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔