وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے سیلاب کے دوران جاں بحق ہونے والے افراد کے ورثا کو فی کس دس لاکھ روپے جبکہ گھروں سے محروم ہونے والوں کو 10 لاکھ اور کمرہ بناکر دینے کا اعلان کیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے یہ اعلان  فلڈ ریلیف کیمپ جلالپور پیروالا سٹی کے حفاظتی بند کے دورے کے موقع پر کیا۔

اس موقع پر مریم نواز نے جلالپور پیروالا کے لئے مستقل حفاظتی بند بنانے کا اعلان کرتے ہوئے جلالپور پیر والا میں انخلا آپریشن کی مانٹیرنگ اور قیام کی ہدایت بھی کی جبکہ اُچ شریف کے لئے گیلانی ایکسپریس وے پراجیکٹ کا اعلان کیا۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے جلالپورپیروالا کے سیلاب متاثرین کے لئے اسپیشل پیکج کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کے دوران جاں بحق ہونے والے افراد کے ورثاء کو 10،10 لاکھ روپے فی کس امداد دی جائے گی۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے سیلاب سے منہدم ہونے والے مکمل گھروں کے متاثرین کو 10 لاکھ اور کمرہ وغیرہ گرنے پر5 لاکھ امداد کا اعلان کیا جبکہ سیلاب کے دوران بڑے مویشیوں کے ضیاع  پر 5 لاکھ اور چھوٹے جانور کے لئے 50 ہزار روپے امداد دینے کا علان کیا۔

اپنے خطاب میں مریم نواز نے کہا کہ محمد نواز شریف کی بیٹی ہوں، اپنا ہر وعدہ پورا کروں گی، سیلاب سے متاثرہ ایک ایک فرد کا نقصان پورا کریں گے۔ انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں دے سکتامگر جاں بحق افراد کے ورثا کے لئے جو بھی ممکن ہوا کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ خود چل کر اپنے جلالپورپیروالا کے مصیبت زدہ بہن بھائیں کے پاس آئی ہوں، یہاں بہت سے لوگ سیلاب میں پھنسے ہوئے ہیں جنہیں ریسکیو کرنا ہے۔ سیلاب میں گرنے والے سب کے گھر بنا کر دینا چاہتی ہوں۔

اُن کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین ہمارے مہمان ہیں،جب تک پانی نہ اترے گھر نہیں جانا، سب کو بچانے کی پوری کوشش کررہے ہیں، بہت بڑا سیلاب اور بہت بڑی تباہی آئی ہے۔ 

وزیراعلیٰ نے کہا کہ سیلاب کے دوران جاں بحق ہونے والے کو واپس نہیں لاسکتے مگر ان کے ورثا کے ساتھ پوری ہمدردی ہے اور ان کے ساتھ ہیں، اللہ تعالیٰ کے حکم پر کسی کا زور نہیں چلتا، لیکن ہر فرد کے لئے پوری کوشش کررہے ہیں۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سیلاب کے دوران کا اعلان کیا ہونے والے نواز شریف مریم نواز نے کہا کہ کے لئے

پڑھیں:

غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ

غزہ میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور رواں سال دسمبر تک تقریباً 14 لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ تعداد اپریل سے جون 2026 کے دوران 12 لاکھ تھی۔ یہ انکشاف انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق غزہ کی 67 فیصد آبادی شدید غذائی عدم تحفظ  کا شکار ہو سکتی ہے، جبکہ 2 لاکھ 12 ہزار افراد غذائی بحران کے انتہائی ہنگامی مرحلے میں زندگی گزار رہے ہیں۔

آئی پی سی کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد امدادی سرگرمیوں میں اضافے سے حالات میں وقتی بہتری آئی تھی اور مئی کے دوران تقریباً 14 لاکھ 90 ہزار افراد تک غذائی امداد پہنچائی گئی۔ تاہم امداد کی مقدار ضرورت سے کہیں کم ہے، روزگار کے مواقع تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور 83 فیصد خاندانوں کے پاس آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ موجود نہیں، جس کے باعث آبادی کی اکثریت مکمل طور پر امدادی سامان پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔

یہ بھی پڑھیے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اپریل 2027 تک 5 سال سے کم عمر 74 ہزار 200 بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں، جن میں 11 ہزار 432 بچوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہونے کا خدشہ ہے اور انہیں فوری طبی و غذائی امداد درکار ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت غزہ میں ہر 5 میں سے صرف ایک بچے کو مناسب خوراک میسر ہے، جبکہ تقریباً نصف خاندانوں کو روزانہ فی فرد 15 لیٹر سے بھی کم پانی دستیاب ہے، جو عالمی انسانی معیار سے کہیں کم ہے۔

اسی طرح 24 ہزار 600 سے زائد حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائیں شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور انہیں فوری ہنگامی غذائی امداد کی ضرورت ہے۔

آئی پی سی کے مطابق جاری جنگ کے نتیجے میں غزہ کا بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ تقریباً 75 فیصد رہائشی مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے ہیں، 70 فیصد سڑکیں ناقابل استعمال ہو چکی ہیں، 95 فیصد زرعی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے، جبکہ 92 فیصد سے زائد کاروباری ادارے تباہ یا بند ہو چکے ہیں۔

رپورٹ میں ورلڈ بینک، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے مشترکہ تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں 35.2 ارب ڈالر مالیت کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، 22.7 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو چکا ہے، جبکہ غزہ کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 71.4 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔

آئی پی سی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ اور مسلسل رسائی یقینی بنائی جائے، غذائیت سے متعلق ہنگامی پروگراموں میں توسیع کی جائے اور مستقل جنگ بندی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ انسانی بحران مزید سنگین نہ ہو۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اکتوبر 2025 سے فضائی حملوں، گولہ باری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ معاہدے کے بعد بھی 900 سے زائد شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

غذائی قلت غزہ فلسطین

متعلقہ مضامین

  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا