وزیر اعلیٰ پنجاب کا سیلاب سے متاثرہ عوام اور علاقوں کی بحالی کے لیے جامع فریم ورک کی تیاری کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے کے سیلاب سے متاثرہ عوام اور علاقوں کی بحالی کے جامع فریم ورک کی تیاری کا فیصلہ کرلیا۔
اس سلسلے میں 14 رکنی اعلی سطح کی کمیٹی تشکیل دے دی گئی، جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب کو کمیٹی کی کنوینئر مقرر کیا گیا ہے۔
نوٹیفیکیشن کے مطبق کمیٹی سیلاب متاثرہ علاقوں کے لیے امدادی میکانزم اور بحالی کا جامع فریم ورک تیار کرے گی، خصوصی صحت، میڈیکل ایجوکیشن اینڈ ایمرجنسی سروسز، آبپاشی، زراعت کے صوبائی وزرا کمیٹی کے ارکان مقرر کئے گئے ہیں۔
چیف سیکرٹری پنجاب کے علاوہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ، بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین بھی کمیٹی کے ارکان بنائے گئے ہیں، پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے چیئرمین کمیٹی کے سیکرٹری کے فرائض انجام دیں گے۔
آبپاشی، زراعت، خزانہ، ایمرجنسی سروسز (ریسکیو 1122) کے سیکرٹری بھی کمیٹی کے ارکان مقرر کر دیے گئے، کمیٹی کے دیگر ارکان میں اربن یونٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل بھی شامل ہیں۔
نوٹیفیکیشن میں کہا گیا کہ کمیٹی بوقت ضرورت ماہرین یا مزید افراد کو بھی رکن بنا سکتی ہے، کمیٹی سیلاب متاثرہ علاقوں میں بروقت اور مؤثر ردعمل کو یقینی بنانے کے لیے امدادی میکانزم تیار کرے گی، سیلاب متاثرہ طبقات کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے جامع فریم ورک تیار کیا جائے گا۔
کمیٹی بحالی کے اقدامات کے لیے فنڈنگ کے تقاضوں کا تعین اور ممکنہ وسائل کی نشاندہی کرے گی، کمیٹی فصلوں، گھروں اور دیگر نقصانات کا تفصیلی جائزہ لے کر رپورٹ مرتب کرے گی۔
تاریخ میں پہلی مرتبہ دریائی علاقوں، ان کے راستوں اور آبی گزرگاہوں کی ڈیجیٹل میپنگ کی جائے گی، کمیٹی فوری، وسط مدتی اور طویل المدتی اقدامات، اہداف کے تعین کے ساتھ عمل درآمد پلان بھی تیار کرے گی۔
نوٹیفیکیشن کے مطابق کمیٹی ایک ہفتے کے اندر رپورٹ وزیراعلیٰ کے سامنے پیش کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کمیٹی کے کے لیے کرے گی
پڑھیں:
واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
واشنگٹن میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل کے درمیان ایک وسیع تر سیاسی و سیکیورٹی معاہدے کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، تاہم زمینی صورتحال اب بھی نازک ہے اور جنوبی لبنان میں جھڑپوں اور فضائی حملوں کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رک سکا۔ ان مذاکرات کا مقصد لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ بندی کو مضبوط بنانا، سرحدی سلامتی کے معاملات حل کرنا اور ایک ایسے فریم ورک پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے جو مستقبل میں ایک جامع سیاسی سمجھوتے کی بنیاد بن سکے۔
یہ بھی پڑھیں:لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
اس سلسلے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حزب اللہ اسرائیل کی جانب سے متبادل اقدامات کی صورت میں مکمل جنگ بندی کے لیے آمادہ ہے، کیونکہ لبنانی قیادت جزوی یا محدود سیز فائر کے بجائے ایک جامع اور مستقل معاہدے کی حامی ہے۔ یاد رہے کہ اپریل 2026 میں واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان کئی دہائیوں بعد براہِ راست مذاکرات کا آغاز ہوا تھا، جن میں سرحدی تنازعات، جنوبی لبنان کی سلامتی، جنگ بندی کے نفاذ اور طویل المدتی سیاسی انتظامات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
Day one of direct Israel–Lebanon talks in Washington, DC has concluded, US State Department spokesperson Tommy Pigott says, adding “progress continues” on political and security tracks, with another round scheduled for tomorrow.
???? LIVE coverage ⤵️ https://t.co/tsxQueIYdS
— Al Jazeera English (@AJEnglish) June 3, 2026
تاہم سفارتی پیشرفت کے باوجود زمینی حقائق اب بھی پیچیدہ ہیں۔ اسرائیل نے حالیہ دنوں میں جنوبی لبنان میں فضائی حملے جاری رکھے جبکہ حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، یہی وجہ ہے کہ مذاکراتی عمل کو ابھی حتمی کامیابی قرار نہیں دیا جا رہا۔ اگرچہ امریکی قیادت کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ اسرائیل اور حزب اللہ نے فائرنگ روکنے پر اتفاق کر لیا ہے، تاہم بعد میں دونوں جانب سے متضاد بیانات اور بعض مقامات پر جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جس سے واضح ہوا کہ مستقل امن کے لیے مزید مذاکرات درکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کا لبنانی شہر ’صور‘ خالی کرنیکا حکم، شدید حملوں سے کشیدگی بڑھ گئی
اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو ممکنہ معاہدے میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا، لبنانی فوج کی تعیناتی، سرحدی سلامتی کے نئے انتظامات اور اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 پر عمل درآمد جیسے نکات شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم حزب اللہ کے اسلحے اور اس کے مستقبل کے کردار کا معاملہ اب بھی سب سے بڑا اختلافی نکتہ تصور کیا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر واشنگٹن مذاکرات مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ضرور ہیں، لیکن لبنان، اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان دیرپا امن کے لیے ابھی کئی سیاسی اور سیکیورٹی رکاوٹیں عبور کرنا باقی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا لبنان واشنگٹن