قطر پر اسرائیلی حملہ: پاکستان کی سلامتی کونسل سے فوری نوٹس لینے کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
پاکستان نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کر دی۔
قطر کے دارالحکومت دوحہ پر اسرائیلی فضائی حملے نے نہ صرف خطے کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ عالمی ضمیر کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اس سنگین صورتحال پر پاکستان نے الجزائر اور صومالیہ کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کی درخواست کی ہے۔
نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار نے اس اقدام کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کا قطر پر بلااشتعال اور غیر قانونی حملہ عالمی امن کے لیے خطرہ ہے۔ ہمیں اس پر فوری اور سنجیدہ عالمی ردعمل کی ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا مقصد سلامتی کونسل کو اس سنگین واقعے سے آگاہ کرنا اور صورتحال پر باضابطہ مشاورت کو یقینی بنانا ہے۔
اسحاق ڈار نے مزید کہاکہ پاکستان، قطری حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی اور بھرپور حمایت کا اظہار کرتا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز اسرائیل نے دوحہ میں واقع ایک رہائشی کمپاؤنڈ پر فضائی حملہ کیا، جس کا ہدف فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کی مرکزی قیادت تھی۔
حماس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ حملے میں سینیئر رہنما خلیل الحیہ کے بیٹے سمیت 6 افراد شہید ہوئے، تاہم تنظیم کی اعلیٰ قیادت محفوظ رہی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ قطر پر حملہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی اقدار کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سلامتی کونسل
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔