ڈھاکا یونیورسٹی انتخابات: پاکستان حامی اسلامی چھاترا شِبیر کی بڑی کامیابی
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
ڈھاکا (نیوز ڈیسک) ڈھاکا یونیورسٹی کے طلبہ یونین انتخابات میں پاکستان حامی طلبہ تنظیم اسلامی چھاترا شِبیر نے نمایاں کامیابی حاصل کر لی۔
معروف بنگلہ دیشی اخبار پروتھم الو کے مطابق نائب صدر، جنرل سیکریٹری اور اسسٹنٹ جنرل سیکریٹری کی نشستیں شِبیر کے امیدواروں نے جیت لیں۔
انتخابات میں ابو شادک قیوم نے 14 ہزار 42 ووٹ لے کر نائب صدر کی نشست اپنے نام کی، ایس ایم فرہاد نے 10 ہزار 794 ووٹ حاصل کر کے جنرل سیکریٹری کا منصب سنبھالا، جبکہ محی الدین خان نے 11 ہزار 772 ووٹوں کے ساتھ اسسٹنٹ جنرل سیکریٹری کی پوزیشن جیت لی۔
رپورٹ کے مطابق 78 فیصد سے زائد طلبہ نے ووٹ ڈال کر انتخابی عمل میں بھرپور حصہ لیا۔ چیف ریٹرننگ آفیسر پروفیسر محمد زشیم الدین نے انتخابی عمل کو شفاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈھاکا یونیورسٹی کے انتخابات ایک ماڈل ہیں جنہیں دیگر جامعات بھی اپنا سکتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ نتائج نہ صرف بنگلہ دیش میں نئی سیاسی فضا کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ بھارت کے منفی بیانیے کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا ہیں
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جنرل سیکریٹری
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل کرلیں جبکہ مزید اضلاع میں حلقہ بندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ الیکشن کمیشن جلد خیبر پختونخوا حکومت سے انتخابات کی حتمی تاریخ مانگے گا۔ اسلام ٹائمز۔ الیکشن کمیشن نے کے پی کے میں مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کروانے پر کام شروع کر دیا، صوبے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان ہے۔ الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل کرلیں جبکہ مزید اضلاع میں حلقہ بندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ الیکشن کمیشن جلد خیبر پختونخوا حکومت سے انتخابات کی حتمی تاریخ مانگے گا۔ ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن رواں ماہ کے آخر میں مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کرانے کا حتمی فیصلہ کرے گا، بلدیاتی اداروں کی مدت مارچ اور جون 2026 میں مکمل ہو چکی ہے۔
الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں الیکشنز کروانے کے لیے تیار ہے، اناضلاع میں بلدیاتی الیکشنز کی تاریخ سے متعلق سمری تاحال خیبر پختونخوا کابینہ میں زیر التوا ہے۔ کے پی کابینہ کے کل کے اجلاس میں سمری سے متعقل فیصلہ متوقع ہے، چیف سیکرٹری کے پی کے 28 جولائی تک الیکشن کمیشن کو آگاہ کریں گے۔