اندرون شہر لاہور میں شدید بارشوں کے باعث پانچ مکانات منہدم
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
اندرون شہر لاہور میں گزشتہ تین دنوں کے دوران پانچ مکانات شدید بارشوں کے باعث منہدم ہوگئے۔
والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کے بروقت اقدامات کی بدولت کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، محکمے کی جانب سے مون سون کے آغاز پر خطرناک عمارتوں کو پہلے ہی خالی کروا لیا گیا تھا۔
والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کی جانب سے راستوں سے ملبہ ہٹا کر آمد و رفت کو بحال کیا گیا تاکہ شہریوں کو کسی دشواری کا سامنا نہ ہو۔
ڈپٹی ڈائریکٹر بلڈنگ کنٹرول علی اسلام گل کا کہنا ہے کہ خطرناک مکانات کو پہلے ہی نوٹسز جاری کر کے مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا تھا۔
ڈائریکٹر جنرل والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی ملیحہ رشید نے کہا کہ عوامی تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے اور ہم مسلسل صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔
والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کے مطابق مون سون سیزن میں کسی قسم کے نقصان سے بچاؤ کے لیے سروے، مکانات کی انخلا مہم اور نگرانی کا عمل جاری رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔