اندرون شہر لاہور میں شدید بارشوں کے باعث پانچ مکانات منہدم
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
اندرون شہر لاہور میں گزشتہ تین دنوں کے دوران پانچ مکانات شدید بارشوں کے باعث منہدم ہوگئے۔
والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کے بروقت اقدامات کی بدولت کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، محکمے کی جانب سے مون سون کے آغاز پر خطرناک عمارتوں کو پہلے ہی خالی کروا لیا گیا تھا۔
والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کی جانب سے راستوں سے ملبہ ہٹا کر آمد و رفت کو بحال کیا گیا تاکہ شہریوں کو کسی دشواری کا سامنا نہ ہو۔
ڈپٹی ڈائریکٹر بلڈنگ کنٹرول علی اسلام گل کا کہنا ہے کہ خطرناک مکانات کو پہلے ہی نوٹسز جاری کر کے مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا تھا۔
ڈائریکٹر جنرل والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی ملیحہ رشید نے کہا کہ عوامی تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے اور ہم مسلسل صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔
والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کے مطابق مون سون سیزن میں کسی قسم کے نقصان سے بچاؤ کے لیے سروے، مکانات کی انخلا مہم اور نگرانی کا عمل جاری رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
تصویر سوشل میڈیا۔پراونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کر دی۔
لاہور ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے۔
بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث نناوے فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں میں کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے۔ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا، بارشوں کے باعث 38 مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ شہریوں سے گزارش ہے موسم برسات میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔