سلامتی یا سینسرشپ؟ پاکستان میں ڈیجیٹل نگرانی پر تشویش کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک نئی رپورٹ میں پاکستان میں شہریوں کی بڑے پیمانے پر نگرانی کیےجانے کا انکشاف کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق حکومت نے لا فل انٹرسیپٹ مینجمنٹ سسٹم یعنی لمز اور ویب مانیٹرنگ سسٹم یعنی ڈبلیو ایم ایس نامی فائر وال کے ذریعے کم از کم 4 لاکھ موبائل فونزاور 2 لاکھ آن لائن سیشنز کو مانیٹرکیا ہے۔
ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ یہ نظام اظہار رائے کو دبانے اور اختلاف کو خاموش کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس نگرانی کے لیے چینی اورمغربی ٹیکنالوجی استعمال کی جارہی ہے، جس سے پرائیویسی اور انسانی حقوق کے سنگین خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں ٹیلی کام نگرانی کا نظام قانونی اور عالمی معیار کے مطابق ہے، پی ٹی اے
انسانی حقوق کی تنظیم نے بین الاقوامی کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس نگرانی کے نظام میں اپنا کردار واضح کریں اور ایسے اقدامات سے اجتناب کریں جو شہری آزادیوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
لمز اور ڈبلیو این ایس سسٹمز کیا ہیں؟ یہ سسٹمز کس قسم کی معلومات اکٹھی کر سکتے ہیں؟ اور کیا اس سے واٹس ایپ اور سگنل جیسی ایپس بھی متاثر ہوسکتی ہیں؟
سائبر سیکیورٹی ماہر اطہر عبدالجبار کا کہنا ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ میں جس نگرانی کے نظام کی نشاندہی کی گئی ہے، وہ دراصل پاکستان میں پہلے سے موجود ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں آن لائن جوا: خطرات، قوانین اور روک تھام کیسے ممکن ہے؟
ان کے مطابق لمز کا فوکس ٹیلی کام سروسز پر ہے، یعنی کالز، ایس ایم ایس اور ایم ایم ایس کو ٹریک اور ٹریس کرنا۔ اس سسٹم میں جس نمبر کی نگرانی مقصود ہو اسے فیڈ کر دیا جاتا ہے، جس کے بعد اس نمبر سے متعلق تمام کالز، پیغامات اور حتیٰ کہ لوکیشن تک ریکارڈ ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ویب مانیٹرنگ سسٹم انٹرنیٹ ٹریفک کی نگرانی کے لیے استعمال ہوتا ہے، جو ایک طرح کا فائر وال ہے۔ اس کے ذریعے یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ کس قسم کا ڈیٹا ملک میں آ رہا ہے اور کون سا باہر جا رہا ہے۔
’اس سسٹم کی مدد سے حکومت مخصوص ویب سائٹس یا یو آرایل بلاک کرسکتی ہے، حتیٰ کہ وی پی این کو بھی محدود کیا جا سکتا ہے۔‘
مزید پڑھیں: وفاقی حکومت نے پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی قائم کر دی، ڈاکٹر سہیل منیر چیئرمین مقرر
واٹس ایپ اور سگنل جیسی انکرپٹڈ ایپس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ان کے پیغامات کا مواد براہِ راست پڑھنا ممکن نہیں، تاہم میٹا ڈیٹا یعنی یہ کہ کس نے کب اور کس کو پیغام بھیجا، ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔ مگر میسج کا مواد پڑھنا ممکن نہیں۔
اطہر عبدالجبار کے مطابق یہ صورتحال ایک طرف ریاستی سلامتی کے تقاضے پورے کرنے میں مددگار تو ہے لیکن دوسری جانب شہریوں کی پرائیویسی اور اظہار رائے کی آزادی کے لیے سنگین خدشات بھی پیدا کرتی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ہر روزکروڑوں ٹیلی فون کالیں خفیہ طور پر سن کر، چین کی تیار کردہ اور پاکستان میں زیر استعمال ایک انٹرنیٹ فائروال کی مدد سے اور سوشل میڈیا پر سنسرشپ کی صورت میں کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: ڈیجیٹل معیشت کی طرف قدم: وزیراعظم نے ایف بی آر میں ڈیجیٹل ایکو سسٹم کی تشکیل کی منظوری دیدی
اس حوالے سے ڈیجیٹل رائٹس ایکسپرٹ ڈاکٹر ہارون بلوچ کا کہنا تھا کہ جدید سرویلنس سسٹمز شہریوں کی پرائیویسی کے لیے نہایت سنگین خطرہ بن سکتے ہیں، کیونکہ ہر کال، پیغام اور آن لائن سرگرمی ریکارڈ یا مانیٹرنگ کی صورت میں متعلقہ شہری کی ذاتی زندگی تقریباً ختم ہو جاتی ہے۔
’یہ صورت حال براہِ راست شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ہے، کیونکہ پرائیویٹ لائف کسی بھی آزاد معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔‘
ڈاکٹر ہارون بلوچ نے بتایا کہ ان سسٹمز کا غلط استعمال بھی ایک بڑا خدشہ ہے۔ اگر یہ ٹیکنالوجیز صرف قومی سلامتی کے بجائے سیاسی مقاصد یا ذاتی مفاد کے لیے استعمال کی جائیں تو اس کے نتائج نہایت خطرناک ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں مائیکروسافٹ کا دفتر بند: کیا ملکی ڈیجیٹل معیشت کو نقصان ہو سکتا ہے؟
’ایسے حالات میں عام شہریوں کے ساتھ ساتھ سیاسی مخالفین اور ناقدین کو دبانے کے لیے ان سسٹمز کو استعمال کیا جا سکتا ہے، جو جمہوری اقدار کے برعکس ہے۔‘
واضح رہے کہ ایمنسٹی نے 9 ستمبر 2025 کے روز جاری کردہ اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ دنیا میں آبادی کے لحاظ سے بڑے ممالک میں شمار ہونے والے پاکستان میں ریاستی نگرانی کا یہ نیٹ ورک وسیع تر ہوتا جا رہا ہے اور اسے چینی ساختہ اور مغربی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئےبروئے کار لایا جاتا ہے۔
ڈاکٹر ہارون بلوچ کے مطابق یہ نگرانی صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور سیاسی کارکنوں کے لیے خصوصی طور پر خطرناک ہے، کیونکہ یہ لوگ اکثر اپنی حکمتِ عملی، رپورٹس یا معلومات اپنے ذرائع کے ذریعے حاصل اور شیئر کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: قلم کی جنگ: پاکستانی صحافیوں پر سائبر قوانین کا شکنجہ
’اگر ان کے ذرائع تک رسائی حساس اداروں کو حاصل ہو جائے تو نہ صرف ان کی آزادی اور کام متاثر ہوگا بلکہ ان کی زندگی اور سلامتی بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔‘
یہی وجہ ہے کہ ایسے سسٹمز کا استعمال کرتے ہوئے شہریوں کی اس نوعیت کی نگرانی پرسخت سوالات اٹھ رہے ہیں کہ آیا یہ ریاستی سلامتی کے لیے ہیں یا شہریوں کی آزادی سلب کرنے کا ذریعہ۔
ڈیجیٹل قوانین کے حوالے سے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ پاکستان میں ابھی تک ایسا جامع ڈیٹا پروٹیکشن یا پرائیویسی قانون موجود نہیں جو نگرانی کے ان نظاموں کو مؤثر طور پر ریگولیٹ کر سکے۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں ڈیجیٹل کرنسی پائلٹ پروجیکٹ کا عنقریب آغاز، کرپٹو ریگولیشن منظور
یہی وجہ ہے کہ یہ معاملہ شہری آزادیوں کے لیے سنگین خدشہ بن رہا ہے اور مستقبل میں ایسے قوانین کی فوری ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
ڈیجیٹل حقوق پر کام کرنے والی تنظیم بولو بھی کی شریک بانی فریحہ عزیز کا کہنا ہے کہ ایمنسٹی کی حالیہ رپورٹ نے پچھلے سال کی ان قیاس آرائیوں کو درست ثابت کیا ہے جن میں پاکستان میں انٹرنیٹ پر کنٹرول کے لیے ایک ’فائر وال‘ کی تنصیب کا تذکرہ کیا جاتا رہا ہے۔
فریحہ کے مطابق اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی بیرونِ ملک سے خرید کر ملک میں لگائی گئی ہے، اس طرح کی ٹیکنالوجی کی خرید و فروخت پر بحث ہونا ضروری ہے کیونکہ یہ براہِ راست انسانی حقوق کے لیے خطرے کا باعث بنتی ہے۔
مزید پڑھیں: عدالتوں میں ٹیکنالوجی کا استعمال وقت کی ضرورت ہے، چیف جسٹس پاکستان
’جب یہ ٹیکنالوجی حکومتوں کو فراہم کی جاتی ہے تو اس کے استعمال کا طریقہ شہریوں کی پرائیویسی اور آزادی اظہار کو متاثر کرتا ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ ہر شخص کی بات سنی جا رہی ہے بلکہ ذرائع کی حفاظت بھی ممکن نہیں رہتی۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ان خدشات کی گنجائش اب بھی موجود ہے کیونکہ یہاں ٹارگٹڈ سرویلنس کے ساتھ ساتھ ایک بڑے پیمانے پر نگرانی کا نظام بھی قائم ہے۔
فریحہ کے مطابق فائر وال کے ذریعے یہ طے کیا جاتا ہے کہ کون سی ویب سائٹ یا مواد تک رسائی ممکن ہو اور کون سا بلاک رہے۔ اسی لیے صارفین اکثر وی پی این کے ذریعے رسائی حاصل کرتے ہیں، لیکن بعد میں یہ بھی سامنے آیا کہ وی پی این کو بھی مختلف اوقات میں بند کردیا گیا۔
مزید پڑھیں: ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ 2025: ایک تنقیدی جائزہ
ان کے مطابق رپورٹ سے یہ بات بھی کھل کر سامنے آئی ہے کہ کن غیر ملکی کمپنیوں نے اپنا ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر پاکستان کو فروخت کیا۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس وزیرِ مملکت برائے آئی ٹی شِزہ فاطمہ خواجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ فائر وال کا مقصد مواصلاتی آزادی کو محدود کرنا نہیں بلکہ یہ ایک سائبَر سیکیورٹی اقدام ہے۔
’اگرمقصد سینسرشپ ہوتا تو ایکس کے ساتھ ساتھ ٹِک ٹاک اور فیس بک کو بھی بند کیا جاتا۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اطہر عبدالجبار ایمنسٹی انٹرنیشنل ٹیکنالوجی ٹیلی کام سروسز ڈاکٹر ہارون بلوچ ڈیجیٹل قوانین سائبر سیکیورٹی فائر وال فریحہ عزیز واٹس ایپ وی پی این ویب سائٹس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اطہر عبدالجبار ایمنسٹی انٹرنیشنل ٹیکنالوجی ٹیلی کام سروسز ڈاکٹر ہارون بلوچ ڈیجیٹل قوانین سائبر سیکیورٹی فائر وال واٹس ایپ وی پی این ویب سائٹس ایمنسٹی انٹرنیشنل ڈاکٹر ہارون بلوچ پاکستان میں استعمال کی مزید پڑھیں جا سکتا ہے نگرانی کے رپورٹ میں شہریوں کی جا رہا ہے واٹس ایپ کے ذریعے کے مطابق فائر وال کا کہنا کے لیے کیا جا
پڑھیں:
عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔
ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔
ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔
ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔
اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔
نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔
لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔
سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔
پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔