ملک میں سیلاب اور بارشوں سے ہلاکتوں کی تعداد 900 تک پہنچ گئی
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
وفاقی وزیر مصدق ملک نے انکشاف کیا ہے کہ حالیہ شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث ملک بھر میں اموات کی تعداد 900 تک جا پہنچی ہے۔ یہ بات انہوں نے چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ( این ڈی ایم اے ) کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس بریفنگ کے دوران بتائی۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیوں نے دنیا بھر کو متاثر کیا ہے اور پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو ان تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ملک میں موسمیاتی ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
مصدق ملک نے کہا کہ ہمیں اگلے مون سون سیزن کی تیاری ابھی سے شروع کرنی ہوگی تاکہ ممکنہ نقصانات کو کم سے کم رکھا جا سکے۔ ان کے مطابق، سیالکوٹ اور نارووال سمیت کئی علاقوں میں شدید بارشوں نے تباہی مچائی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں فلاحی ادارے اور نجی تنظیمیں بھرپور انداز میں امدادی کاموں میں حصہ لے رہی ہیں، اور ان کا جذبہ واقعی قابل تحسین ہے۔
وفاقی وزیر نے یہ بھی بتایا کہ سندھ میں ممکنہ سیلاب سے بچاؤ کے لیے وفاقی حکومت، NDMA اور صوبائی حکومت نے مل کر پیشگی انتظامات مکمل کر لیے ہیں، اور امید ظاہر کی کہ نقصانات نسبتاً کم ہوں گے۔
پریس بریفنگ کے اختتام پر مصدق ملک نے کہا کہ حکومت پنجاب، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے، اور اس بات پر زور دیا کہ تمام اداروں کو مل کر بچوں کے محفوظ اور بہتر مستقبل کے لیے کام کرنا ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز