Express News:
2026-06-03@07:34:11 GMT

قطر پر اسرائیلی حملہ، اسرائیل امن کا خواہاں نہیں

اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT

اسرائیلی یہودی چینل 14نے رپورٹ کیا ہے کہ دوحہ قطر میں حماس کی قیادت پر حملے کے لیے منگل کو 10اسرائیلی طیاروں نے اُڑان بھری۔ان کا ہدف1800کلومیٹر دور تھا۔ایک برطانوی ہوائی آئل ٹینکر نے دوحہ سے ہی ٹیک آف کیا اور اسرائیلی لڑاکا طیاروں کو دورانِ پرواز ایندھن فراہم کر کے واپس قطر اتر گیا۔ستم ظریفی دیکھئے اور قطر کی بے بسی ملاحظہ ہو کہ قطر پر حملے کے لیے برطانوی آئل ٹینکر قطر سے اڑا اور واپس قطر میں ہی لینڈ کر گیا۔

عرب ریاستوں کی حالت عجیب ہے۔اسرائیل کے دس F-35طیاروں نے راستے میںسعودی عرب،اردن اور عراق کی فضائی حدود سے پرواز کرتے ہوئے قطر میں دوحہ پر حملہ کیا۔ حملے کے بعد یہ اسرائیلی لڑاکا طیارے اسی فضائی راستے سے ہوتے ہوئے اسرائیل میں اتر گئے۔واپسی کے سفر میں امریکی آئل ٹینکر طیاروں نے اسرائیلی لڑاکا طیاروں کو فضا میں ایندھن فراہم کیا۔

ایک چھوٹی سی،گیس کے وسیع ذخائر رکھنے والی خلیجی عرب ریاست قطر،اس حوالے سے بہت اہم ہے کہ اس کے پاس بے پناہ دولت ہے۔یہ ریاست مڈل ایسٹ میں سب سے بڑے امریکی فوجی اڈے اور اس علاقے کے لیے امریکی کمانڈ CENTCOM ہیڈ کوارٹر کی میزبانی کرتی ہے۔

قطر کو اتنے بڑے فوجی اڈے اور سینٹ کام ہیڈکوارٹر کی وجہ سے شاید یہ غلط فہمی تھی کہ اس کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہے اور کوئی دوسرا ملک اس پر حملے کی جرات نہیں کرے گا۔مگر یہ قطر کی خام خیالی نکلی۔پچھلے دنوں ایران،اسرائیل جنگ کے اختتامی دنوں میں جب امریکی بی ٹو بمبار جہازوں نے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملے کیے تو ایران نے قطر میں امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا۔امریکا نے حملے سے پہلے ایران کو خبردار کر دیا تھا اور یہ بھی بتا دیا تھا کہ یہ حملہ یکبارگی ہوگا اور اسے دہرایا نہیں جائے گا۔

جواب میں ایران نے قطر میں امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے سے پہلے امریکا کو حملے سے آگاہ کرتے ہوئے تفصیلات شیئر کر دی تھیں۔اسی لیے دونوں اطراف کوئی خاص جانی نقصان نہیں ہوا تھا لیکن قطر کی زمین پر حملہ تو ہو گیا اور اس کی سالمیت و خود مختاری تو چیلنج ہو گئی۔اب ایک بار پھر قطر کی زمین پر حملہ ہوا ہے۔

اسرائیل کہہ تو یہ رہا ہے کہ یہ اس کا اپنا اقدام ہے لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اسرائیل نے امریکا،برطانیہ،سعودی عرب،اردن اور عراق کو پیشگی اطلاع دے دی تھی، تبھی ان ممالک نے لڑاکا طیاروں کی ری فیولنگ کی اور عرب ممالک نے اپنی فضا کے استعمال کے لیے اسرائیل کو راہداری فراہم کی۔قطر امریکا کا میجر نان نیٹو اتحادی ہے اور اسرائیل تو گویا امریکا ہی ہے۔یوں قطر اپنے ایک بڑے اور قریبی اتحادی کے ہاتھوں پٹا ہے۔قطر نے امریکی صدر ٹرمپ کو اس کے دورے کے دوران400ملین ڈالر کا جمبو جیٹ تحفے میں پیش کیا تاکہ امریکا اسے ایئر فورس ون کے طور پر استعمال کرے۔قطر نے یہ سب کچھ کیا لیکن امریکا نے قطری زمین اور قطری فضائی حدود کی حفاظت کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔

امریکا نے حماس اسرائیل جنگ بندی کے لیے نئی تجاویز دی تھیں۔حماس نے اصولی طور پر ان تجاویز سے اتفاق کرتے ہوئے قطر میں اپنے رہنماؤں کو جمع کیا تاکہ وہ سب مل کر امریکی تجاویز کا جائزہ لیں۔دوحہ قطر میں حماس قیادت کا اجلاس جاری تھا جب اس پر اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے حملہ کر دیا۔پہلے یہ دلخراش اطلاع ملی کہ حماس کے چیف مذاکرات کار جناب خلیل الحیہ شہید ہو گئے لیکن پھر خبر آئی کہ حماس مذاکراتی ٹیم تو اس حملے میں بال بال بچ گئی ہے البتہ جناب خلیل الحیہ کے بیٹے اور وفد کے دوسرے پانچ ارکان بشمول ایک سیکیورٹی اہلکار مارے گئے۔

جناب خلیل الحیہ کی زوجہ محترمہ اور ان کے شہید ہونے والے بیٹے کی اہلیہ زخمی ہیں۔اسرائیل پچھلے کچھ عرصے سے حماس کی قیادت کو مسلسل نشانہ بنا رہا ہے۔اسی طرح نشانہ بناتے ہوئے اس نے حزب اﷲ کے سربراہ اور تقریباً ساری حزب قیادت مار ڈالی ہے۔حماس پولیٹیکل ونگ کے سربراہ جناب اسمٰعیل ہانیہ کو تہران میں نشانہ بنایا اور پھر جناب ہانیہ کی جگہ قیادت سنبھالنے والے کو غزہ میں شہید کر دیا۔اب اسرائیل حماس کی باقی ساری قیادت کو تہہ تیغ کرنا چاہتا ہے۔یاد رہے یہ وہی حماس ہے جسے اسرائیل نے خود کھڑا کیا تاکہ یاسر عرفات کی الفتح تنظیم کا اثر و رسوخ ختم کیا جا سکے۔

قطر نے اپنی زمین پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کی ہے۔کئی عرب اور مسلمان و غیر مسلمان ملکوں کے رہنماؤں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شدید مذمت کی ہے لیکن وہ مذمت کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتے ہیں۔قطر نے اسے اسرائیل کی کھلی ریاستی دہشت گردی قرار دیا ہے۔حملے کے بعد قطر نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری مذاکرات سے تاوقتِ ثانی ہاتھ کھینچ لیا لیکن شاید امریکا کے دباؤ میں آ کر جلدی ہی یہ کہہ دیا کہ وہ مذاکراتی عمل جاری رکھے گا۔اسرائیلی ڈیفنس فورسز نے حملے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ اس نے بقیہ حماس قیادت کو نشانہ بنایا جس نے 7اکتوبر2023 کو اسرائیل پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے کی جرات کی تھی۔

اسرائیلی قیادت سمجھتی ہے کہ انھیں مذاکرات کہیں لے کر نہیں جا رہے اور یہ صرف وقت کا ضیاع ہے۔اسرائیل کے مطابق اگر حماس قیادت کو بالکل ختم نہ کیا گیا تو جنگ بندی کی صورت میں اسے وقت مل جائے گا۔یہ اپنے عزائم کے لیے مزید تیاری بھی کریں گے اور منفی اقدامات بھی اُٹھائیں گے۔اسرائیل اس بات کو یقینی بنانے پر تلا ہوا ہے کہ اس کے Hostages جلد از جلد واپس آئیں اور حماس غزہ پر دوبارہ حکومت کرنے کے قابل نہ رہے۔

اسرائیل نے یہ دکھا دیا ہے کہ حماس کی قیادت کہیں بھی محفوظ نہیں اور انھیں کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ مارا جا سکتا ہے۔اگر حماس کے دعوے کے مطابق ساری مذاکراتی ٹیم بچ بھی گئی ہے تو یہ خطرہ بہرحال موجود رہے گا کہ وہ اسرائیل کے نشانے پر ہیں اور اسرائیل اکیلا نہیں اسے امریکا اور مغرب کی حمایت و مدد حاصل ہے البتہ یہ تو کبھی ممکن نہیں ہو گا کہ حماس کے سارے جنگجو ختم ہو جائیں۔ہاں یہ خطرہ اب سر اٹھائے کھڑا ہے کہ حماس اب ایک تنظیم کے طور پر اکٹھی رہ سکے گی کہ نہیں۔ حماس کے لیے اب پلاننگ کرنا، ری سورسز جمع کرنا اور اقدامات اٹھانا مشکل بنتا جا رہا ہے۔اکثر عرب سربراہان حماس کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ کی یہ خواہش ہو گی کہ اسرائیل اور حماس میں اسرائیلی شرائط پر جنگ بند ہو جائے اور ساتھ ہی وہ یوکرین کی جنگ ختم کروا کے اپنے آپ کو نوبل انعام کے لیے سب سے مضبوط اور موزوں امیدوار کے طور پر سامنے لائیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسرائیل ایسے حملے کر کے فضا کیوں مکدر کر رہا ہے۔بظاہر اسرائیلی وزیرِ اعظم نتن یاہو کو امریکا اور اس کے صدر کی کوئی پرواہ نہیں۔نتن یاہو کو یقین ہے کہ صدر ٹرمپ کبھی اسرائیل کی مخالفت مول نہیں لے سکتے کیونکہ ساری امریکی قیادت اسرائیل کی مٹھی میں ہے۔

صدر ٹرمپ تو یروشلم جا کر یہودی بننے کی رسم بھی ادا کر چکے ہیں۔ان کے داماد تو ہیں ہی یہودی۔جو بھی امریکی اسرائیل کی مخالفت کرے گا اس کا سیاسی مستقبل ختم ہو جائے گا۔اسرائیل کو عرب ممالک کی بھی کوئی پرواہ نہیں۔اسے یقین ہے کہ امریکی انتظامیہ اسرائیل کی حمایت میں عرب سربراہوں کو بس ایک بری نظر سے دیکھے گی اور عرب سربراہ ڈھیر ہو جائیں گے۔

ایران کو کمزور کرنے ، شام میں کامیاب قیادت تبدیلی اورحزب اﷲ کو ادھ موا کرنے کے بعد نتن یاہو بہت نڈر ہو چکا ہے۔اس کو مشرقِ وسطیٰ میں کوئی مزاحمت نظر نہیں آتی اس لیے نتن یاہو گریٹر اسرائیل کے ایجنڈے کو بے دھڑک آگے بڑھا رہا ہے۔امریکا و مغرب اس کی پشت پر ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ پچھلے دو دنوں میں اسرائیل نے لبنان،شام، تیونس،قطر اور یمن پر حملہ کیا ہے۔ایسے میں اندھیرا گہرا ہوتا جا رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: لڑاکا طیاروں اسرائیل نے اسرائیل کی اسرائیل کے کرتے ہوئے طیاروں نے قیادت کو فوجی اڈے نتن یاہو کی قیادت حملے کے پر حملے حماس کی حملے کی حماس کے پر حملہ کہ حماس اور اس رہا ہے قطر کی نہیں ا کے لیے

پڑھیں:

جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟

اسلام ٹائمز: اس مخمصے سے نکلنے کے لیے امریکہ کے سامنے دو ہی راستے تھے، ایک طرف جنگ کو وسعت دینے کا اسرائیلی حمایت یافتہ راستہ تھا، تاکہ شکست کی دھند کو بارود کے دھوئیں میں چھپایا جا سکے۔ چنانچہ امریکہ نے ایران کو عالمی خطرہ بنا کر پیش کیا اور یورپی و نیٹو اتحادیوں کو شامل کرنے کی کوشش کی، مگر یورپ نے فاصلہ اختیار کرنے میں عافیت جانی۔ تحریر: سید محمد

کسی پرانے جوئے خانے کی ایک کہاوت مشہور ہے "تم اس وقت تک حقیقتاً نہیں پھنستے جب تک تمہیں یہ احساس نہ ہو جائے کہ باہر نکلنے کا دروازہ بند ہوچکا ہے۔" مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سیاسی بساط پر اسرائیل یہی کھیل کھیل رہا ہے۔ ظاہری بیانیے کو ایک طرف رکھیں تو ایک واضح حقیقت سامنے آتی ہے: اسرائیل ایران کی ایٹمی صلاحیت یا میزائل پروگرام سے کم اور امریکی انخلا کے محض امکان سے زیادہ خوفزدہ ہے۔ یہ خوف کوئی معمولی تشویش نہیں بلکہ ایک ایسی وحشت ہے، جو اسرائیلی حکمتِ عملی کے ہر پہلو کو تشکیل دے رہی ہے۔

اسرائیل ہر اس راستے کو سبوتاژ کرتا دکھائی دیتا ہے، جو واشنگٹن کو بحران سے نکلنے کا راستہ فراہم کرسکے۔ یہاں جنگ کا مقصد دشمن کو شکست دینا نہیں بلکہ اتحادی کو اس حد تک اندر کھینچ لینا ہے کہ وہ خود جنگ کا قیدی بن جائے۔ سوال یہ نہیں کہ امریکہ اس تنازعے میں شریک رہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اس حد تک شریک ہو جائے کہ بعد میں الگ نہ ہوسکے۔ یہ حکمتِ عملی ایک نفسیاتی اور سیاسی جال کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ ابتدا ہی سے اسرائیل نے ٹرمپ کو ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم کی طرف دھکیلا اور ٹرمپ اپنی طاقت اور امریکی بالادستی کے تصور میں اس قدر گرفتار رہا کہ اسے واپسی کا راستہ دکھائی نہ دیا۔

ایران اور مزاحمتی محاذ کی استقامت نے امریکی عسکری برتری کے اُس طلسم کو چیلنج کر دیا، جسے دہائیوں سے ناقابلِ شکست تصور کیا جاتا تھا۔ اربوں ڈالر کے دفاعی نظام، جدید ٹیکنالوجی اور وسیع عسکری اتحاد بھی خطے میں پیدا ہونے والی نئی بے یقینی کو روک نہ سکے، جبکہ امریکی دفاعی چھتری اور اڈوں کی محدودیت پہلے سے زیادہ نمایاں ہوگئی۔ اسی میدان میں اہداف کا مسلسل سکڑنا بھی صورتِ حال کا مظہر تھا۔ ایران میں رجیم تبدیلی جیسے بڑے ہدف سے شروع ہونے والا معرکہ بلاشرط ہتھیار ڈالنے کے مطالبے، دفاعی صلاحیتوں کو محدود کرنے اور بالآخر آبنائے ہرمز کو کھلوانے جیسے محدود اہداف تک سمٹ آیا، جبکہ امریکی دھمکیاں بھی بتدریج ایرانی سویلین انفراسٹرکچر اور پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے تک گر آئیں۔

اس مخمصے سے نکلنے کے لیے امریکہ کے سامنے دو ہی راستے تھے، ایک طرف جنگ کو وسعت دینے کا اسرائیلی حمایت یافتہ راستہ تھا، تاکہ شکست کی دھند کو بارود کے دھوئیں میں چھپایا جا سکے۔ چنانچہ امریکہ نے ایران کو عالمی خطرہ بنا کر پیش کیا اور یورپی و نیٹو اتحادیوں کو شامل کرنے کی کوشش کی، مگر یورپ نے فاصلہ اختیار کرنے میں عافیت جانی۔ دوسری طرف سفارتی اخراج کا راستہ تھا، مگر یہاں بھی مسئلہ یہ تھا کہ اسرائیل جس صف بندی کو اپنی سلامتی کے لیے ضروری سمجھتا ہے، وہی امریکہ کے علاقائی اتحادیوں کے لیے معاشی، سیاسی اور سکیورٹی خطرات کا باعث بن سکتی تھی۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور دیگر خلیجی ریاستیں اپنی معیشتوں، توانائی کی تنصیبات اور سرمایہ کاری کے مراکز کے باعث براہِ راست خطرات سے دوچار ہوسکتی تھیں۔ اسی لیے وہ ایسے راستوں کی تلاش میں تھیں، جو ضروری نہیں کہ اسرائیل کے مفادات سے ہم آہنگ ہوں۔ آج اگر امریکہ اپنے مفادات کے لیے واپس چلا جاتا ہے تو اسرائیل تنہا رہ جاتا ہے، لیکن اگر پورا امریکی وقار، افواج اور سیاسی سرمایہ اس جنگ سے جڑ جائے تو واشنگٹن کے لیے اسرائیل سے فاصلہ اختیار کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

روایتی جنگوں کا مقصد دشمن کو شکست دینا ہوتا ہے، لیکن اسرائیل نے جنگ کو ایک ایسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا سیکھ لیا ہے، جس کا نشانہ دشمن نہیں بلکہ اس کا سب سے بڑا اتحادی یعنی امریکہ ہے۔ لبنان کا محاذ بھی اب صرف میدانِ جنگ کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ سفارتی عمل کو متاثر کرنے کا ایک مؤثر آلہ بن چکا ہے۔ جب بھی مذاکرات یا کشیدگی میں کمی کا امکان پیدا ہوتا ہے، لبنان دوبارہ مرکزِ توجہ بن جاتا ہے۔ اس کے ذریعے کسی بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ یا سست کیا جا سکتا ہے۔ اگر امریکہ ایران کے ساتھ کسی مفاہمت تک پہنچ جاتا ہے تو یہ تاثر پیدا ہوسکتا ہے کہ خطے کے اہم معاملات اسرائیل کی براہِ راست شمولیت کے بغیر بھی طے ہوسکتے ہیں اور یہی وہ تاثر ہے، جسے اسرائیل ٹوٹنے نہیں دینا چاہتا۔

بعض ریاستوں کے لیے مستقل بحران خود ایک قیمتی سرمایہ بن جاتا ہے۔ جاری کشیدگی اتحادیوں کو متحد اور سکیورٹی خدشات کو زندہ رکھتی ہے۔ اسرائیل کے لیے فوری امن یا جامع سیاسی تصفیہ شاید اتنا مفید نہیں جتنا ایک ایسا کنٹرولڈ بحران جو مسلسل مغربی حمایت اور علاقائی توجہ کو اس کی طرف کھینچے رکھے۔ یہ تمام عوامل امریکہ کو ایک غیر معمولی اسٹریٹجک دباؤ کے دائرے میں دھکیل چکے ہیں۔ ایک طرف ایران کی ایسی مزاحمت ہے، جو کسی حتمی فوجی حل کو ناممکن بناتی ہے، دوسری طرف اسرائیل کی خواہش ہے کہ واشنگٹن مکمل طور پر بحران میں جکڑا رہے، جبکہ تیسری طرف علاقائی اتحادی کشیدگی میں کمی چاہیتے ہیں تاکہ ان کی معیشتیں اور داخلی استحکام محفوظ رہ سکیں۔ نتیجتاً امریکہ ایک ایسی پوزیشن میں کھڑا ہے، جہاں آگے بڑھنا بھی خطرناک ہے، پیچھے ہٹنا بھی مشکل اور جمود بھی اتحادیوں کے اعتماد کو کھوکھلا کر رہا ہے۔

جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں جیتی جاتیں بلکہ بعض اوقات ان کی سب سے بڑی کامیابی مخالف اتحاد کے اندر موجود تضادات، کمزوریوں اور متصادم مفادات کو بے نقاب کرنے اور اس کے سیاسی، سفارتی اور اسٹریٹجک ڈھانچے میں دراڑیں نمایاں کرنے میں ہوتی ہے۔ اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حماقت سے نارملائزیشن فریم ورک کو شدید دھچکا پہنچنے کے باوجود، سعودی عرب، قطر، پاکستان، ترکی، مصر اور اردن جیسے ممالک پر ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت اور واضح سیاسی صف بندی کے لیے دباؤ بڑھانا بھی قابلِ توجہ ہے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ ان ممالک سے ایک ایسے بحران میں اپنی پوزیشن واضح کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جس کے ممکنہ عسکری، معاشی اور سیاسی نتائج کا بوجھ بھی انہیں خود اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: قشم جزیرے پر امریکی حملے، ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر وار
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام