WE News:
2026-07-24@09:45:18 GMT

امریکی نیول اکیڈمی میں لاک ڈاؤن، فائرنگ سے طالب علم زخمی

اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT

امریکی ریاست میری لینڈ کے شہر این اپولس میں قائم یو ایس نیول اکیڈمی بدھ کی شام اچانک لاک ڈاؤن کر دی گئی جب حکام کو ایک ممکنہ خطرے کی اطلاع ملی۔

لاک ڈاؤن کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں ایک طالب علم زخمی ہو گیا۔

یہ بھی پڑھیں:چارلی کرک کے قتل پر خوشی منانے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی، امریکی نائب وزیر خارجہ

اطلاعات کے مطابق ایک طالب علم نے مبینہ طور پر ایک قانون نافذ کرنے والے اہلکار کو مشکوک سمجھتے ہوئے تربیتی ہتھیار سے حملہ کیا، جس پر اہلکار نے جوابی فائرنگ کی۔

زخمی طالب علم کو فوری طور پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کی حالت کو مستحکم قرار دیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر فائرنگ کی آوازوں اور خطرے کی اطلاع پر اکیڈمی کو لاک ڈاؤن کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:چارلی کرک کے قاتل کی تلاش ، اطلاع دینے والے کو کتنا انعام ملے گا؟

تاہم بعد ازاں تفتیش میں یہ واضح ہو گیا کہ کوئی فعال حملہ آور موجود نہیں تھا۔ اس کے باوجود طلبہ اور عملے کو حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی۔

ترجمان نیول اکیڈمی نے وضاحت کی کہ لاک ڈاؤن محض احتیاطی اقدام کے طور پر نافذ کیا گیا تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو قابو میں لایا جا سکے۔

شہری حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اعلان کیا ہے کہ صورتحال اب مکمل طور پر کنٹرول میں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ریاست میری لینڈ فائرنگ لاک ڈاؤن نیول اکیڈمی یو ایس.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا ریاست میری لینڈ فائرنگ لاک ڈاؤن نیول اکیڈمی یو ایس نیول اکیڈمی لاک ڈاؤن طالب علم

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: ملیر 15 میں رینجرز اور ایس آئی یو کی کارروائی، 3 بھتہ خور ہلاک
  • جیفری ایپسٹین سے روابط رکھنے والے ماڈلنگ اسکاؤٹ کی پیرس میں پراسرار موت
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • کوہاٹ: ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، بچے سمیت 3 افراد قتل 
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق