بھارتی گلوکار ڈاکٹر کیساتھ ریپ کے مقدمے میں گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT
ملیالم ریپر ہیرن داس مرلی عرف ویدن کو خاتون ڈاکٹر سے ریپ کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مشہور ملیالم ریپر ویدن کو عصمت دری کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔ 27 اگست کو کیرالہ ہائی کورٹ نے شادی کے جھوٹے وعدے اور ریپ کے الزام کے کیس میں ویدان کو مشروط ضمانت دی تھی۔
عدالت نے انہیں منگل سے لگاتار دو دن تک تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی تھی تاہم پوچھ گچھ کے دوسرے دن انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ پولیس اب انہیں ضمانت پر رہا کرنے سے پہلے طبی معائنہ کرے گی۔
یاد رہے کہ گلوکار پر یہ مقدمہ ایک خاتون ڈاکٹر کی جانب سے دائر کیا گیا تھا، جس نے الزام لگایا تھا کہ ویدن نے 2021 میں انسٹاگرام کے ذریعے ان سے دوستی کی اور اس سے شادی کرنے کا وعدہ کیا۔
خاتون نے دعویٰ کیا کہ ویدان نے اس سے شادی کے وعدے کے بعد 2021 سے 2023 کے درمیان کوزی کوڈ، کوچی اور دیگر مقامات پر اس کے ساتھ متعدد بار جنسی تعلقات قائم کیے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔