توشہ خانہ ٹو؛ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جلد سماعت و ٹرائل روکنے کی درخواست دائر
اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT
اسلام آباد:
بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ ٹو کیس میں ٹرائل رکوانے اور اپیل کی جلد سماعت کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔
ہائی کورٹ میں یہ اپیل بیرسٹر سلمان صفدر اور خالد یوسف چوہدری کے ذریعے دائر کی گئی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے نومبر 2024 میں بریت کی درخواست مسترد کی تھی جس کے خلاف 21 جنوری 2025 کو اپیل دائر کی گئی۔
اپیل کی آخری سماعت 25 اپریل کو ہوئی، اس کے بعد سے معاملہ زیر التوا ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ اپیل میں تاخیر سے درخواست گزار کے بنیادی حقوق متاثر ہونے کا خدشہ ہے جب کہ ٹرائل کورٹ غیر معمولی تیزی سے کارروائی آگے بڑھا رہی ہے۔
درخواست گزار کے مؤقف کے مطابق اپیل پر فیصلہ آنے سے پہلے اگر ٹرائل مکمل ہوگیا تو اپیل کا فائدہ ختم ہو جائے گا۔ اسی لیے عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ اپیل کا فیصلہ ہونے تک ٹرائل روکا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بذات خود نشہ کرنے والا شخص کسی بھی جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والے کو مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا کوئی حق حاصل ہے۔جیونیوز کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم ’سنی مسیح‘ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقراررکھنے کا حکم دے دیا۔
حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ تحریر کیا ، جبکہ اس اہم کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ واردات کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، لہٰذا اس بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
عدالت نے اس استدعا کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔ عدالت نے رولنگ دی کہ رضاکارانہ نشے کو کسی بھی مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانون کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ جرم سے استثنیٰ صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف (زبردستی) یا پھر اس کی لاعلمی میں کوئی نشہ آور چیز دی گئی ہو اور وہ اپنے حواس میں نہ ہو۔
پاکستانی نوجوان مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کے عشق میں لائن آف کنٹرول کے پار پہنچ گیا
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم نے انتہائی بے دردی سے ایک کمسن اور معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔ یہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے جو کسی بھی رعایت کا متقاضی نہیں، لہٰذا مجرم کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔
مزید :