ٹرمپ کے دوست کو قتل کرنے والے کی تصویر جاری؛ عوام سے مدد کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
امریکی یونیورسٹی میں صدر ٹرمپ کے قریبی دوست، اسرائیل نواز اور قدامت پسند چارلی کرک کو قتل کردیا گیا تھا جس کی تحقیقات میں بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی تحقیقاتی ایجنسی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) نے ایک مشتبہ شخص کی تصویر جاری کی ہے۔
اگرچہ ایف بی آئی آر نے تصویر میں موجود شخص کو چارلی کرک کا مشتبہ قاتل قرار نہیں دیا ہے تاہم عوام سے اس کی شناخت سے متعلق معلومات فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔
خیال رہے کہ چارلیہ کرک پر یونی ورسٹی میں اس وقت فائرنگ کی گئی تھی جب وہ ٹرانس جینڈر سے متعلق ایک سیمینار میں لیکچر دے رہے تھے۔
https://x.
جس پر پولیس نے مجمع سے ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لیا تھا تاہم بعد میں اس کا حملے سے کوئی تعلق سامنے نہیں آیا۔
خیال رہے کہ چارلی کرک امریکی قدامت پسند تحریک کی نمایاں آواز اور نوجوانوں میں مقبول ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔
ان کی قائم کردہ تنظیم ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے ملک بھر کے 3,500 سے زائد کالج کیمپسز میں سرگرم ہے اور تعلیمی اداروں میں دائیں بازو کے خیالات کو فروغ دیتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔