چارلی کرک کو امریکا کا سب سے بڑا سول اعزاز ’پریزیڈنشیل میڈل آف فریڈم‘ دیا جائے گا، ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
امریکا کی ریاست یوٹا میں قدامت پسند کارکن اور تنظیم ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے کے بانی چارلی کرک یونیورسٹی کیمپس میں فائرنگ کے واقعے میں ہلاک ہوگئے۔
وہ یوٹا ویلی یونیورسٹی میں ایک مباحثے کے دوران نشانہ بنے، جب ایک نامعلوم حملہ آور نے دور کی عمارت کی چھت سے گولی چلائی۔
مزید پڑھیں: قتل ہونے والے امریکی نوجوان رہنما چارلی کرک کون تھے؟
پولیس کے مطابق واقعے میں استعمال ہونے والی رائفل برآمد کر لی گئی ہے تاہم حملہ آور تاحال مفرور ہے۔ ابتدائی طور پر دو مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا لیکن تحقیقات کے بعد رہا کر دیا گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چارلی کرک کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں آزادی کا شہید قرار دیا اور اعلان کیا کہ انہیں بعد از مرگ امریکا کا سب سے بڑا سول اعزاز پریزیڈنشیل میڈل آف فریڈم دیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: قدامت پسند نوجوان رہنما چارلی کرک ہلاک، امریکا میں 4 روزہ سرکاری سوگ کا اعلان
ایف بی آئی اور ریاستی حکام نے حملہ آور کی گرفتاری کے لیے تحقیقات جاری رکھے ہیں اور عوام سے تعاون کی اپیل کی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پریزیڈنشیل میڈل آف فریڈم چارلی کرک یوٹا ویلی یونیورسٹی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چارلی کرک چارلی کرک
پڑھیں:
امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
واشنگٹن: امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو کرنسی ایکسچینجز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق پابندیوں کا مقصد ایران سے منسلک مالیاتی سرگرمیوں کو محدود کرنا اور ایسے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے جن پر امریکی حکام کو پابندیوں سے بچنے میں معاونت کا شبہ ہے۔
بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان افراد اور اداروں کے ساتھ کاروبار یا مالی لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے، کمپنیاں اور افراد بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اس اقدام کے بعد بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے لیے ان نامزد اداروں سے تعلقات برقرار رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ حتمی منصوبے پر فوری ردعمل دینے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک کوئی باضابطہ جواب نہیں بھیجا گیا۔
ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی تجویز پر ایران میں مختلف سطحوں پر مشاورت جاری ہے اور متعلقہ حکام اس منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے تہران کسی بھی ممکنہ معاہدے میں صرف وعدوں پر انحصار نہیں کرنا چاہتا بلکہ ایسے ٹھوس اور حقیقی فوائد کا خواہاں ہے جو ایرانی عوام اور ملکی معیشت کے لیے عملی نتائج فراہم کر سکیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نئی امریکی پابندیاں اور جاری سفارتی مذاکرات ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ سمجھوتے کے امکانات پر بھی عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔