امریکا کے معروف قدامت پسند تجزیہ کار، غیر معمولی اثرورسوخ رکھنے والے نوجوان رہنما اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی چارلی کرک بدھ کے روز یوٹاہ میں ایک عوامی جلسے کے دوران فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔

واقعہ یوٹاہ ویلی یونیورسٹی میں اس وقت پیش آیا جب 3 ہزار سے زائد افراد جلسے میں شریک تھے۔ ایک نامعلوم حملہ آور نے اچانک فائرنگ کر دی۔ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گولیاں لگنے کے بعد چارلی کرک اسٹیج پر گر پڑے اور مجمع میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ انہیں اسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکے۔

آپریشن سندور، یہ ہماری جنگ نہیں

بھارتی جریدے انڈیا ٹوڈے کے مطابق چارلی کرک نے مئی میں پاکستان اور  بھارت کے درمیان ہونے والی 4 روزہ جنگ  پر کھل کر مؤقف اختیار کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کو اس تنازع میں کسی صورت شامل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ امریکا کی جنگ نہیں ہے۔ کرک نے کہا کہ اگرچہ بھارت اور پاکستان دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں، تاہم یہ تنازع ایٹمی جنگ تک نہیں پہنچے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں بھارت کی اخلاقی حمایت کرنی چاہیے لیکن اس سے آگے نہیں جانا چاہیے۔ یہ ہماری لڑائی نہیں ہے، ہمارا خطہ بھی نہیں ہے۔

بھارتی ورک ویزا کی مخالفت

چارلی کرک کا دوسرا مؤقف امیگریشن پالیسی سے متعلق تھا۔ انہوں نے خاص طور پر بھارتی ورکرز کو نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ امریکی ملازمتوں پر قبضہ کر رہے ہیں۔

2 ستمبر کو انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا کہ امریکا کو مزید بھارتی ویزوں کی ضرورت نہیں۔ شاید کسی بھی ملک سے آنے والی قانونی امیگریشن نے امریکی کارکنوں کو اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا بھارت سے آنے والوں نے۔ اب بس! ہمیں اپنے لوگوں کو پہلے رکھنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ انتظامیہ نے بھارتی شہریوں پر زمین تنگ کردی، امریکا سے انخلا جاری

یہ بیان انہوں نے ایک فاکس نیوز کی ایک میزبان کی اس تجویز کی تائید میں دیا جس میں کہا گیا تھا کہ بھارت کے ساتھ کسی بھی تجارتی معاہدے میں مزید ویزے دینا لازمی شرط بن سکتا ہے۔

چارلی کرک کی ہلاکت نے امریکی سیاسی حلقوں میں صدمے کی لہر دوڑا دی ہے۔ ان کا قتل نہ صرف ان کے حامیوں بلکہ ناقدین کے لیے بھی حیرت اور غم کا باعث بنا ہے۔

قتل ہونے والے امریکی نوجوان رہنما چارلی کرک کون تھے؟

بدھ کی سہ پہر یوٹا ویلی یونیورسٹی کے سبزہ زار میں فائرنگ کی آواز گونجی، اور اس کے ساتھ ہی امریکی قدامت پسندی کا ایک نمایاں چہرہ، چارلی کرک، ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئے۔ محض 31 برس کی عمر میں وہ ایک شوہر، 2 بچوں کے والد، اور لاکھوں نوجوانوں کے لیے تحریک کا ذریعہ تھے۔

ایک نوجوان کارکن سے قومی سطح تک

چارلی کرک نے کم عمری ہی میں سیاست اور نظریاتی مباحث کو اپنی زندگی کا محور بنا لیا تھا۔ صرف 18 برس کی عمر میں انہوں نے ’ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے‘ کے نام سے ایک تنظیم قائم کی، جس کا نعرہ امریکا کو ایک بار پھر عظیم ملک بنانا ہے، یہ تنظیم دیکھتے ہی دیکھتے امریکا کی یونیورسٹیوں میں قدامت پسند نظریات کی سب سے مؤثر آواز بن گئی۔

یہ بھی پڑھیے قدامت پسند نوجوان رہنما چارلی کرک ہلاک، امریکا میں 4 روزہ سرکاری سوگ کا اعلان

ان کا خواب یہ تھا کہ کلاس رومز اور کیمپسز میں قدامت پسندوں کو وہ پلیٹ فارم دیا جائے جو طویل عرصے تک ان کے خیال میں لبرل نظریات کے زیرِ اثر رہا۔

سیاسی مشن کی وسعت

2019 میں، کرک نے ایک اور قدم آگے بڑھایا اور ٹرننگ پوائنٹ ایکشن (TPA) کی بنیاد رکھی۔ یہ تنظیم نہ صرف قدامت پسند امیدواروں کی حمایت کرتی تھی بلکہ بڑے پیمانے پر جلسے، ریلیاں اور مہمات بھی منظم کرتی تھی، جن میں اکثر سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود شریک ہوتے تھے۔ کرک کو تیزی سے ٹرمپ کی ’میک امریکا گریٹ اگین (MAGA)‘ تحریک کا جوان چہرہ قرار دیا جانے لگا۔

یہ بھی پڑھیے کیا صدر ٹرمپ امریکا کو مارشل لا کی طرف لے جا رہے ہیں؟

ٹرمپ کے قریبی ساتھی

کرک نے ٹرمپ کے ہر بڑے بیانیے کو بھرپور انداز میں آگے بڑھایا۔ انہوں نے 2020 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے دعووں کی پرزور حمایت کی اور 2024 کی کامیاب انتخابی مہم میں نوجوانوں اور اقلیتی ووٹرز کو متحرک کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ٹرمپ نے کئی بار عوامی سطح پر انہیں خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ چارلی نے نئی نسل کو قدامت پسندی سے جوڑنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

ڈیجیٹل دنیا میں اثر و رسوخ

چارلی کرک صرف جلسوں اور ریلیوں ہی میں تقریریں نہیں کرتے تھے، وہ ایک ڈیجیٹل انفلوئنسر بھی تھے۔ ان کا پوڈکاسٹ ہر ماہ 5 لاکھ سے زائد سامعین کو اپنی طرف متوجہ کرتا تھا، جب کہ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ان کے 53 لاکھ فالوورز تھے۔ یہی اثر و رسوخ انہیں امریکا کے قدامت پسند میڈیا کے بڑے چہروں میں شمار کیا جاتا تھا۔

زندگی کا چراغ اچانک گُل ہوگیا

ان سب کامیابیوں اور شہرت کے باوجود، بدھ کے روز اوڑم کی ایک دھوپ بھری دوپہر میں، وہ ایک اجنبی حملہ آور کی گولی کا نشانہ بن گئے۔ گردن پر ہاتھ رکھے وہ زمین پر گر پڑے اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کی زندگی کا چراغ بجھ گیا۔

چارلی کرک ایک عام شخص نہیں تھے، بلکہ امریکی سیاست میں بڑھتی ہوئی تقسیم اور تشدد کی ایک اور علامت ہے۔ اپنے چاہنے والوں کے لیے وہ ایک ہیرو تھے، ناقدین کے لیے ایک سخت گیر مخالف آواز، لیکن یہ طے ہے کہ محض ایک دہائی کے اندر انہوں نے امریکا کی قدامت پسند دنیا میں ایک ناقابلِ فراموش مقام حاصل کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آپریشن سندور چارلی کرک ڈونلڈ ٹرمپ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: چارلی کرک ڈونلڈ ٹرمپ ڈونلڈ ٹرمپ چارلی کرک امریکا کو انہوں نے کہا کہ کے لیے وہ ایک

پڑھیں:

بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟

گزشتہ ماہ 15 مئی کو بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک سماعت کے دوران جعلی ڈگریوں کے ذریعے مختلف پیشوں میں آ جانے والے لوگوں کو پیراسائٹس قرار دیا تو ان کے اِس بیان نے نہ صرف سوشل میڈیا پر ایک بحث کو جنم دیا بلکہ ایک سیاسی جماعت بھی قائم ہوگئی جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔

گوکہ بعد میں بھارتی چیف جسٹس کانت نے وضاحت کی کہ ان کے الفاظ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور ان کا ہدف تمام بے روزگار نوجوان نہیں تھے بلکہ مخصوص افراد تھے جنہوں نے جعلی اسناد کے ذریعے پیشہ ورانہ شعبوں میں جگہ بنائی لیکن بیان پر آنے والا عوامی ردعمل کم نہیں ہوا۔

مزید پڑھیں: کاکروچ جنتا پارٹی: اکاؤنٹس ہیک، اہلخانہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے، بانی بھارتی جین زی اکاؤنٹ

بھارتی حکومت کی جانب سے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات ’کاؤنٹر پروڈکٹو‘ ثابت ہو رہے ہیں۔

بھارتی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کو محدود کرنے کی کوششیں کی ہیں لیکن یہ اقدامات جین زی کو پارٹی سے زیادہ جوڑ رہے ہیں۔

کاکروچ جنتا پارٹی کیسے بنی؟

بھارتی چیف جسٹس سوریا کانت کے ریمارکس کے ردعمل میں امریکا میں مقیم بھارتی طالب علم اور تعلقاتِ عامہ کے ماہر ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ سیاسی پلیٹ فارم قائم کیا جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔

ابتدائی طور پر یہ ایک مزاحیہ اور طنزیہ مہم تھی، لیکن چند ہی دنوں میں لاکھوں نوجوان اس میں شامل ہوگئے۔ پارٹی نے اپنے آپ کو بے روزگار، آن لائن رہنے والے اور نظام سے مایوس نوجوانوں کی آواز کے طور پر پیش کیا اور اس کا مقصد روایتی سیاست کا مذاق اڑانا تھا۔

نوجوان نسل میں بڑھتا ہوا غم و غصہ بی جے پی کے سوشل میڈیا پر غلبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت جس طرح اصل مسائل سے صرفِ نظر کرتے ہوئے تمام مسائل کو مذہب سے جوڑتی چلی آئی ہے اور جس طرح سے اس نے نوجوانوں کی بے روزگاری اور تعلیمی مسائل کو قالین کے نیچے چھپانے کی کوشش کی ہے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی مقبولیت نے تمام مفروضے غلط ثابت کر دیے ہیں۔

بھارتی سوشل میڈیا جو زیادہ تر وہاں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے غلبے میں ہے اور جہاں بی جے پی پر تنقید کو ہندوؤں پر تنقید سے تعبیر کرکے ٹرولنگ اور نفرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ایسے ماحول کے اندر کاکروچ جنتا پارٹی کا بی جے پی کے سوشل میڈیا غلبے کو توڑنا ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی اب تک کیا کچھ کر چُکی ہے؟

’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے قیام کے بعد محض 2 ہفتوں کے اندر یہ ایک سوشل میڈیا مذاق یا میم مہم سے بڑھ کر ایک قابلِ ذکر سیاسی و سماجی فِنامنا بن گئی ہے۔ لاکھوں نوجوانوں نے آن لائن اس کی رکنیت اختیار کی جبکہ انسٹاگرام، ایکس اور دیگر پلیٹ فارمز پر اس کے صفحات نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔

چند ہی دنوں میں اس کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد کروڑوں تک جا پہنچی ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی جو تاحال ایک غیر منظم تحریک کی شکل میں موجود ہے اس نے بے روزگاری، نوکریوں کے لیے مقابلے کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، پرچہ لیک اسکینڈلز، مہنگائی اور نوجوانوں کے معاشی مسائل کو اپنی مہم کا مرکزی موضوع بنایا۔

حکومت کی جانب سے اس کے ایکس اکاؤنٹ کو بھارت میں محدود یا معطل کیے جانے کے بعد معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا اور اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا گیا، جس کے نتیجے میں آزادیِ اظہار اور سوشل میڈیا سنسرشپ پر نئی بحث چھڑ گئی۔

ادھر دہلی، ممبئی، پونے، بنگلورو اور دیگر شہروں میں نوجوانوں نے علامتی احتجاجی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جہاں بعض شرکا نے کاکروچ کے ماسک اور ملبوسات پہن کر خود کو اس متنازع اصطلاح سے منسلک کیا جس نے اس تحریک کو جنم دیا تھا۔

تحریک کے بانی ابھجیت دیپکے نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارت واپسی کی صورت میں انہیں قانونی کارروائی یا گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس تمام عرصے میں کاکروچ جنتا پارٹی نے نوجوان نسل کے سوالات کو ایک منظم اور نمایاں ڈیجیٹل آواز فراہم کردی، جس کے باعث یہ معاملہ اب محض ایک طنزیہ مہم نہیں بلکہ بھارت کے سیاسی مباحثے کا اہم موضوع بن چکا ہے۔

کیا کاکروچ جنتا پارٹی واقعی سیاسی قوت بن سکتی ہے؟

پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے 6 جون کو بھارت واپسی اور جنتر منتر (دہلی میں احتجاجات کے لیے معروف مقام) پر احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا ہے جو وزیرِ تعلیم کے استعفیٰ کے لیے دیا جائے گا۔

2011-12 میں بھارتی سماجی کارکن انا ہزارے نے بھی جنتر منتر پر دھرنا دیا تھا جس کا مقصد کرپشن کے خلاف لوک پال بِل (قانون سازی) کی منظوری تھا جس میں وہ کامیاب رہے لیکن انا ہزارے نے اپنی تحریک کو سیاسی تحریک نہیں بنایا تھا، تاہم ان کی جماعت کے ایک سرکردہ رہنما اروند کیجریوال نے بعدازاں ایک سیاسی جماعت عام آدمی پارٹی کی بنیاد رکھی جس نے پہلے دہلی اور اب بھارتی پنجاب میں حکومت بنا رکھی ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی اپنی مقبولیت کے باعث کوئی سیاسی جماعت قائم کر سکے گی یا نہیں اس پر بھارت کے سیاسی مبصرین منقسم ہیں۔

بعض تجزیہ کاروں کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی صرف ایک ’میم موومنٹ‘ ہے جو وقت کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔ اس کے پاس نہ تنظیمی ڈھانچہ ہے، نہ مقامی قیادت اور نہ ہی کوئی واضح انتخابی حکمت عملی۔

مزید پڑھیں: کاکروچ جنتاپارٹی کا بھارتی وزیرِ تعلیم کیخلاف احتجاج کا اعلان

دوسری جانب کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی اصل اہمیت انتخابات میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ اس نے نوجوانوں کی ناراضی کو منظم شکل دے دی ہے۔ یہ تحریک شاید خود سیاسی جماعت نہ بن سکے، لیکن اس نے بھارتی سیاست کو یہ پیغام ضرور دیا ہے کہ سوشل میڈیا کی نئی نسل روایتی نعروں سے مطمئن نہیں ہوتی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بھارت بھارتی چیف جسٹس حکومت کے لیے چیلنج سوشل میڈیا مہم کاکروچ جنتا پارٹی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا