کراچی:

سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ سیلاب ایک قومی ایمرجنسی ہے جس کا مقابلہ صرف حکومت اکیلے نہیں کر سکتی، اس کے لیے عوام کا تعاون بے حد ضروری ہے۔

اپنے بیان میں شرجیل میمن نے کہا کہ حکومت سندھ سیلاب کی صورتحال پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہے اور ہر سطح پر مربوط حکمت عملی کے ساتھ کام کیا جا رہا ہے، حکومت سندھ اور تمام ادارے دن رات مانیٹرنگ اور امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ بیراجوں اور دریاؤں پر پانی کی سطح کو مسلسل چیک کیا جا رہا ہے تاکہ وقت سے پہلے حفاظتی اقدامات کیے جا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ کچے کے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرکے عارضی رہائش گاہوں، پینے کے پانی، خوراک، ادویات اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ لوگ انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کی ہدایات پر عمل کریں، افواہوں سے گریز کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں قریبی مرکز یا ہیلپ لائن سے رابطہ کریں۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ اور کابینہ کے دیگر اراکین خود ان آپریشنز کی نگرانی کر رہے ہیں اور متاثرہ علاقوں کے دورے بھی کر رہے ہیں، حکومت سندھ کا مقصد صرف وقتی ریلیف فراہم کرنا نہیں بلکہ متاثرہ علاقوں میں بحالی اور مستقبل میں اس طرح کی صورتحال سے بچاؤ کے لیے مستقل اقدامات کرنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تریموں کے مقام پر پانی کی سطح کم ہوگئی ہے اور پانی کی آمد اور اخراج 161278 کیوسک ہے، پنجند کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا آمد اور اخراج 660350 کیوسک ہے۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ گڈو کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کی آمد 505034 کیوسک جبکہ اخراج 475970 کیوسک ہے، سکھر بیراج کے مقام پر بھی درمیانے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کی آمد 440985 اور اخراج 412735 کیوسک ہے۔ کوٹری کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کی آمد 258004 کیوسک جبکہ اخراج 254354 کیوسک ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 36 گھنٹوں کے دوران کچے کے علاقوں سے 2375 افراد محفوظ مقامات پر منتقل ہو چکے ہیں، اب تک کل 150002 افراد منتقل ہو چکے ہیں، 169 فکسڈ اور موبائل ہیلتھ سائیٹس پر 8389 افراد کو طبی سہولیات فراہم کی گئی ہیں، اب تک مجموعی طور پر 63748 افراد کو طبی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔

سندھ کے سینیئر وزیر کا کہنا تھا کہ گزشتہ 36 گھنٹوں کے دوران 11844 مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، اب تک مجموعی طور پر 410951 مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، 49303 مویشیوں کی ویکسینیشن اور علاج کیا گیا ہے اب تک مجموعی طور پر 1080694 مویشیوں کی ویکسینیشن اور علاج کیا جا چکا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: محفوظ مقامات پر منتقل درجے کا سیلاب ہے پانی کی آمد کے مقام پر نے کہا کہ کیوسک ہے کیا جا ہے اور

پڑھیں:

گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری

 گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، متعدد شاہراہیں، پل اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے ہزاروں افراد، جن میں سیاح بھی شامل ہیں، مختلف علاقوں میں پھنس گئے۔

محکمہ موسمیات نے 26 جولائی تک گلگت بلتستان میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے اچانک سیلاب آنے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق قراقرم شاہراہ داسو سے ہنزہ اور نگر تک کئی مقامات پر بند ہے، جبکہ بابوسر روڈ، بلتستان روڈ، نلتر شاہراہ، غذر۔شندور روڈ، استور ویلی روڈ اور دیگر اہم راستے بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہوگئے ہیں۔

مسلسل سیلابی صورتحال کے باعث امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ کئی علاقے پل اور رابطہ سڑکیں تباہ ہونے کے بعد ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہو گئے ہیں۔

روندو سب ڈویژن کے تورمک نالہ میں شدید سیلاب سے کم از کم تین اہم پل، جن میں ملان پل بھی شامل ہے، بہہ گئے۔ خرمانگ، گانچھے اور شگر اضلاع میں سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ ہراموش میں معلق پل اور بجلی گھر متاثر ہوئے ہیں۔

استور، تانگیر، تھور اور ضلع دیامر کے دیگر علاقوں میں بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام معطل ہو گیا ہے۔ پینے کے پانی کی اسکیمیں، آبپاشی کے نہری نظام اور حفاظتی پشتے بھی تباہ ہو گئے، جبکہ کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری

استور، تھور ویلی، تانگیر اور دیگر علاقوں میں درجنوں خاندان سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں۔

ضلع غذر میں متعدد مقامات پر سڑکیں بند، مقامی سطح پر سیلابی صورتحال اور دو گھروں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت حساس علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

ہنزہ نگر دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے گلگت کے جوتل علاقے میں آٹھ گھروں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جبکہ یاسین ویلی، شیلی آباد، امیت اور دیگر علاقوں میں دریا کے کٹاؤ سے زرعی اراضی اور درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔ غذر۔شندور اور غذر۔گلگت سڑکیں بھی تاحال بند ہیں۔

حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے اور انہیں خیمے، راشن، ادویات اور صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 6 سے 10 اپریل کے دوران بارشیں اور ژالہ باری، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے خوراک، صحت، پینے کے پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور تباہ شدہ سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر متاثرین کی بحالی اور ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے اسلام آباد میں قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے انہیں بتایا کہ گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کی جدید سائنسی طریقوں سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر گلیشیئر کو منفرد شناختی کوڈ دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔

وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب ایک حقیقت بن چکے ہیں اور گلگت بلتستان ان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون پر زور دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بارش تباہی سیلاب گلگت بلتستان

متعلقہ مضامین

  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن