سیلاب ایک قومی ایمرجنسی ہے، حکومت اکیلے مقابلہ نہیں کر سکتی، شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
کراچی:
سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ سیلاب ایک قومی ایمرجنسی ہے جس کا مقابلہ صرف حکومت اکیلے نہیں کر سکتی، اس کے لیے عوام کا تعاون بے حد ضروری ہے۔
اپنے بیان میں شرجیل میمن نے کہا کہ حکومت سندھ سیلاب کی صورتحال پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہے اور ہر سطح پر مربوط حکمت عملی کے ساتھ کام کیا جا رہا ہے، حکومت سندھ اور تمام ادارے دن رات مانیٹرنگ اور امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ بیراجوں اور دریاؤں پر پانی کی سطح کو مسلسل چیک کیا جا رہا ہے تاکہ وقت سے پہلے حفاظتی اقدامات کیے جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ کچے کے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرکے عارضی رہائش گاہوں، پینے کے پانی، خوراک، ادویات اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ لوگ انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کی ہدایات پر عمل کریں، افواہوں سے گریز کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں قریبی مرکز یا ہیلپ لائن سے رابطہ کریں۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ اور کابینہ کے دیگر اراکین خود ان آپریشنز کی نگرانی کر رہے ہیں اور متاثرہ علاقوں کے دورے بھی کر رہے ہیں، حکومت سندھ کا مقصد صرف وقتی ریلیف فراہم کرنا نہیں بلکہ متاثرہ علاقوں میں بحالی اور مستقبل میں اس طرح کی صورتحال سے بچاؤ کے لیے مستقل اقدامات کرنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تریموں کے مقام پر پانی کی سطح کم ہوگئی ہے اور پانی کی آمد اور اخراج 161278 کیوسک ہے، پنجند کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا آمد اور اخراج 660350 کیوسک ہے۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ گڈو کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کی آمد 505034 کیوسک جبکہ اخراج 475970 کیوسک ہے، سکھر بیراج کے مقام پر بھی درمیانے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کی آمد 440985 اور اخراج 412735 کیوسک ہے۔ کوٹری کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کی آمد 258004 کیوسک جبکہ اخراج 254354 کیوسک ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 36 گھنٹوں کے دوران کچے کے علاقوں سے 2375 افراد محفوظ مقامات پر منتقل ہو چکے ہیں، اب تک کل 150002 افراد منتقل ہو چکے ہیں، 169 فکسڈ اور موبائل ہیلتھ سائیٹس پر 8389 افراد کو طبی سہولیات فراہم کی گئی ہیں، اب تک مجموعی طور پر 63748 افراد کو طبی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔
سندھ کے سینیئر وزیر کا کہنا تھا کہ گزشتہ 36 گھنٹوں کے دوران 11844 مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، اب تک مجموعی طور پر 410951 مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، 49303 مویشیوں کی ویکسینیشن اور علاج کیا گیا ہے اب تک مجموعی طور پر 1080694 مویشیوں کی ویکسینیشن اور علاج کیا جا چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: محفوظ مقامات پر منتقل درجے کا سیلاب ہے پانی کی آمد کے مقام پر نے کہا کہ کیوسک ہے کیا جا ہے اور
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
گلگت:پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔