جلالپور پیر والا بڑے سیلابی ریلے کی زد میں آگیا، ہنگامی بنیادوں پر لوگوں کا انخلاء جاری
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
جلالپور پیر والا بڑے سیلابی ریلے کی زد میں آگیا، ہنگامی بنیادوں پر لوگوں کا انخلاء جاری WhatsAppFacebookTwitter 0 11 September, 2025 سب نیوز
ملتان:دریائے چناب کے بپھرنے سے ملتان کی تحصیل جلالپور پیر والا چاروں جانب سے بڑے سیلابی ریلے کی زد میں آگیا جبکہ اوچ شریف سپرہائی وے پر لگایا گیا شگاف بھی مزید بڑا ہوگیا، ہنگامی بنیادوں پر لوگوں کا انخلاء جاری ہے۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر سینئر وزیر مریم اورنگزیب اور دیگر وزراء نے بھی جلال پور پیر والا کے نواحی گاؤں 86ایم بند پر ریسکیو آپریشن کی نگرانی کی۔
سینئر وزیر مریم اورنگزیب انخلا آپریشن کے لیے خود اسپیکر پر اعلان کرتی رہیں جبکہ کمشنر ملتان اور دیگر حکام بھی جلال پور پیر والا میں موجود ہیں جہاں صبح 6 بجے سے آپریشن جاری ہے۔
تحصیل جلالپور کے 90 فیصد نواحی علاقے اب تک زیر آب آچکے ہیں جبکہ اوچ شریف پر شگاف سے سیلاب کی زد میں آنے والی بستیوں سے بھی انخلا جاری ہے۔
دوسری جانب، دریائے چناب میں ہیڈ پنجند کے مقام پر پانی کا بہاؤ 6 لاکھ 60 ہزار کیوسک ہے اور پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 50 ہزار کیوسک تک آ گیا ہے۔
دریائے چناب میں خانکی ہیڈ ورکس کے مقام پانی کا بہاؤ 92 ہزار کیوسک اور قادر آباد کے مقام پر پانی کا بہاؤ 94 ہزار کیوسک ہے۔ ہیڈ تریموں کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 78 ہزار کیوسک ہے، پانی کے بہاؤ میں کمی ہو رہی ہے۔
دریائے ستلج سلیمانکی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 24 ہزار کیوسک ہے۔
دریائے راوی میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 82 ہزار کیوسک ہوگیا اور جسر کے مقام پر پانی کا بہاؤ 23 ہزار کیوسک تک آ چکا ہے۔
شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 31 ہزار کیوسک اور بلوکی ہیڈ ورکس کے مقام پر پانی کا بہاؤ 63 ہزار کیوسک ہے۔ ہیڈ سدھنائی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 78 ہزار کیوسک ہے اور پانی کا بہاؤ کم ہو رہا ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کی شدت میں کمی سے دریاؤں کے بہاؤ میں نمایاں کمی واقع ہو چکی ہے، دریاؤں کے بالائی علاقوں میں بھی بارشوں کا سلسلہ رک چکا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربارش کے بعد کئی ’’برساتی مینڈک‘‘ نکل آئے جو افواہیں پھیلا رہے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ بارش کے بعد کئی ’’برساتی مینڈک‘‘ نکل آئے جو افواہیں پھیلا رہے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ عمرقید کے ملزم کی اپیل پر سماعت: جج سپریم کورٹ کا مدعی مقدمہ سے دلچسپ مکالمہ، کمرہ عدالت میں قہقہے نیب، ایف آئی اے اور پولیس سے عمران خان کیخلاف مقدمات کی تفصیلات طلب حسان نیازی کی ملٹری کسٹڈی، کورٹ مارشل کیخلاف درخواست سماعت کیلیے مقرر وزیراعظم شہباز شریف وفد کے ہمراہ ایک روزہ دورے پر قطر روانہ خیبر پختونخوا میں آپریشنز کے دوران بھارتی پراکسی فتنۃ الخوارج کے 19 دہشتگرد ہلاکCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کی زد میں ا پیر والا
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔