ملتان، بہاولپور (نیوز ڈیسک) پنجاب کے مختلف اضلاع میں سیلاب کی شدت برقرار ہے، کشتیوں کے حادثات اور دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث مزید جانی و مالی نقصانات سامنے آئے ہیں۔

خان بیلہ اور موہانہ سندیلہ میں متاثرین کو منتقل کرنے والی کشتیاں الٹ گئیں۔ موہانہ سندیلہ میں چار سالہ بچہ جاں بحق ہوا، 18 افراد کو زندہ نکال لیا گیا جبکہ 9 افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ خان بیلہ میں کشتی ڈوبنے سے دو ماہ کا بچہ جاں بحق ہوگیا۔ مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور کے علاقے لتی ماڑی میں بھی کشتی الٹنے کا واقعہ پیش آیا تاہم تمام افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ بہاولنگر کی بستی کلر والی میں دریائے ستلج میں 12 سالہ بچہ ڈوب کر جاں بحق ہوگیا۔

اوچ شریف روڈ پر شگاف
ملتان کے قریب جلال پور شہر کو بچانے کے لیے اوچ شریف روڈ پر شگاف ڈال دیا گیا۔ حکام کے مطابق عارضی بند پر پانی کا دباؤ کم نہ ہونے پر یہ اقدام کیا گیا۔

لیاقت پور نوروالا میں تباہی
رحیم یارخان کی تحصیل لیاقت پور نوروالا میں کئی دہائیوں بعد خشک دریائی علاقے میں دریائے چناب کا پانی داخل ہوگیا جس سے افراتفری مچ گئی۔ ہزاروں افراد کو ریسکیو آپریشن کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انسانی جانوں کے تحفظ اور مالی نقصان کو کم سے کم رکھنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

ہیڈ پنجند پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب
دریائے چناب میں ہیڈ پنجند کے مقام پر پانی کی سطح چھ لاکھ 68 ہزار کیوسک سے تجاوز کر گئی ہے، جو سمکہ چاچڑاں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ گزشتہ دنوں پانی کے اخراج میں کمی کے بعد اب ایک بار پھر پانی کی سطح بلند ہونا شروع ہوگئی ہے۔ دریائے سندھ میں تونسہ بیراج کے مقام پر بھی دو لاکھ کیوسک کے قریب ریلا موجود ہے۔ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر ایک لاکھ 82 ہزار کیوسک سے زیادہ کا پانی بہہ رہا ہے۔ حکام کے مطابق بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔

زرعی معیشت کو بھاری نقصان
سیلاب سے پنجاب کی زرعی معیشت کو شدید دھچکا لگا ہے۔ اب تک 21 لاکھ 25 ہزار 838 ایکڑ زرعی رقبہ متاثر ہو چکا ہے۔ کپاس کی ایک لاکھ 10 ہزار 850 ایکڑ، چاول کی 9 لاکھ 70 ہزار 929 ایکڑ، مکئی کی ایک لاکھ 86 ہزار 419 ایکڑ اور گنے کی 2 لاکھ 20 ہزار 344 ایکڑ فصل تباہ ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ 4 لاکھ 500 ایکڑ پر چارے اور ایک لاکھ 15 ہزار 260 ایکڑ پر سبزیوں کی فصل بھی متاثر ہوئی ہے۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ایک لاکھ

پڑھیں:

پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا

پشاور:

خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔

شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔

بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔

مزید پڑھیں

پشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع

شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔

دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا