پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری، 3 جاں بحق، 9 لاپتہ، لاکھوں ایکڑ فصلیں متاثر
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
ملتان، بہاولپور (نیوز ڈیسک) پنجاب کے مختلف اضلاع میں سیلاب کی شدت برقرار ہے، کشتیوں کے حادثات اور دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث مزید جانی و مالی نقصانات سامنے آئے ہیں۔
خان بیلہ اور موہانہ سندیلہ میں متاثرین کو منتقل کرنے والی کشتیاں الٹ گئیں۔ موہانہ سندیلہ میں چار سالہ بچہ جاں بحق ہوا، 18 افراد کو زندہ نکال لیا گیا جبکہ 9 افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ خان بیلہ میں کشتی ڈوبنے سے دو ماہ کا بچہ جاں بحق ہوگیا۔ مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور کے علاقے لتی ماڑی میں بھی کشتی الٹنے کا واقعہ پیش آیا تاہم تمام افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ بہاولنگر کی بستی کلر والی میں دریائے ستلج میں 12 سالہ بچہ ڈوب کر جاں بحق ہوگیا۔
اوچ شریف روڈ پر شگاف
ملتان کے قریب جلال پور شہر کو بچانے کے لیے اوچ شریف روڈ پر شگاف ڈال دیا گیا۔ حکام کے مطابق عارضی بند پر پانی کا دباؤ کم نہ ہونے پر یہ اقدام کیا گیا۔
لیاقت پور نوروالا میں تباہی
رحیم یارخان کی تحصیل لیاقت پور نوروالا میں کئی دہائیوں بعد خشک دریائی علاقے میں دریائے چناب کا پانی داخل ہوگیا جس سے افراتفری مچ گئی۔ ہزاروں افراد کو ریسکیو آپریشن کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انسانی جانوں کے تحفظ اور مالی نقصان کو کم سے کم رکھنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
ہیڈ پنجند پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب
دریائے چناب میں ہیڈ پنجند کے مقام پر پانی کی سطح چھ لاکھ 68 ہزار کیوسک سے تجاوز کر گئی ہے، جو سمکہ چاچڑاں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ گزشتہ دنوں پانی کے اخراج میں کمی کے بعد اب ایک بار پھر پانی کی سطح بلند ہونا شروع ہوگئی ہے۔ دریائے سندھ میں تونسہ بیراج کے مقام پر بھی دو لاکھ کیوسک کے قریب ریلا موجود ہے۔ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر ایک لاکھ 82 ہزار کیوسک سے زیادہ کا پانی بہہ رہا ہے۔ حکام کے مطابق بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔
زرعی معیشت کو بھاری نقصان
سیلاب سے پنجاب کی زرعی معیشت کو شدید دھچکا لگا ہے۔ اب تک 21 لاکھ 25 ہزار 838 ایکڑ زرعی رقبہ متاثر ہو چکا ہے۔ کپاس کی ایک لاکھ 10 ہزار 850 ایکڑ، چاول کی 9 لاکھ 70 ہزار 929 ایکڑ، مکئی کی ایک لاکھ 86 ہزار 419 ایکڑ اور گنے کی 2 لاکھ 20 ہزار 344 ایکڑ فصل تباہ ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ 4 لاکھ 500 ایکڑ پر چارے اور ایک لاکھ 15 ہزار 260 ایکڑ پر سبزیوں کی فصل بھی متاثر ہوئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایک لاکھ
پڑھیں:
سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
کراچی: پاکستان میں سونے کی قیمت میں اضافہ مسلسل دوسرے روز بھی جاری رہا، جس کے بعد مقامی صرافہ بازاروں میں فی تولہ سونا 4 ہزار 600 روپے مہنگا ہو گیا۔
آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق اضافے کے بعد 24 قیراط فی تولہ سونے کی نئی قیمت 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے مقرر کی گئی ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 3 ہزار 944 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 3 لاکھ 71 ہزار 944 روپے ہو گئی۔
دوسری جانب چاندی کی قیمت میں بھی معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ فی تولہ چاندی 7 روپے اضافے کے بعد 6 ہزار 403 روپے جبکہ 10 گرام چاندی 6 روپے مہنگی ہو کر 5 ہزار 489 روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی سونے کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا تھا، جب فی تولہ سونا 4 ہزار 700 روپے مہنگا ہو کر 4 لاکھ 29 ہزار 236 روپے تک پہنچ گیا تھا، جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت 4 ہزار 29 روپے اضافے کے بعد 3 لاکھ 68 ہزار روپے ہوگئی تھی۔
عالمی مارکیٹ میں بھی قیمتی دھاتوں کے نرخ بڑھنے کا رجحان برقرار ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 46 ڈالر اضافے کے بعد 4 ہزار 114 ڈالر ریکارڈ کی گئی، جبکہ چاندی کی عالمی قیمت 0.07 ڈالر اضافے سے 59.24 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں اضافے، امریکی ڈالر کی نقل و حرکت، شرح سود اور جغرافیائی کشیدگی جیسے عوامل مقامی مارکیٹ پر بھی براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں، جس کے باعث پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔