ایتھوپیا نے افریقہ کے سب سے بڑے ڈیم کا افتتاح کردیا، مصر اور سوڈان کو خدشات
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
ایتھوپیا میں افریقہ کے سب سے بڑے ڈیم کا افتتاح، مصر اور سوڈان نے خدشات کا اظہار کردیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس منصوبے پر 5 ارب ڈالر کی لاگت آئی ہے اور اس سے لاکھوں افراد کو بجلی فراہم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ ڈیم کے افتتاح کو ایتھوپیا اپنی توانائی خودکفالت کی طرف ایک اہم سنگ میل قرار دے رہا ہے۔
تاہم اس منصوبے نے خطے میں تنازع کو مزید بڑھا دیا ہے۔ دریائے نیل کے ڈاؤن اسٹریم پر واقع مصر اور سوڈان کو خدشہ ہے کہ ڈیم کی وجہ سے دریائی پانی کا بہاؤ کم ہو جائے گا، جس سے ان کے زرعی اور پینے کے پانی کے ذخائر متاثر ہو سکتے ہیں۔
یہ ڈیم 170 میٹر (550 فٹ) بلند اور تقریباً 2 کلومیٹر لمبا ہے، جو دریائے نیل کے نیلے حصے پر سوڈان کی سرحد کے قریب واقع ہے، اس کی تعمیر 2011 میں شروع ہوئی تھی۔
4 ارب ڈالر لاگت سے تعمیر ہونے والا یہ میگا اسٹرکچر 74 ارب مکعب میٹر پانی ذخیرہ کرنے اور 5 ہزار 150 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو ایتھوپیا کی موجودہ پیداوار سے دگنی ہے، یہ بجلی کی گنجائش کے لحاظ سے افریقہ کا سب سے بڑا ڈیم ہے
مصر، جو اپنی 97 فیصد پانی کی ضروریات کے لیے دریائے نیل پر انحصار کرتا ہے، عرصے سے اس منصوبے پر تحفظات کا اظہار کرتا آیا ہے، صدر عبدالفتاح السیسی نے اسے اپنی آبی سلامتی کے لیے ’وجودی خطرہ‘ قرار دیا ہے۔
مصر نے ڈیم کے افتتاح کو ’یکطرفہ اقدام‘ اور ’بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی‘ کہا اور اپنے عوام کے ’وجودی مفادات‘ کے تحفظ کا عزم ظاہر کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔