دریائے چناب اور ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب، پنجاب میں زرعی معیشت کو شدید نقصان
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
لاہور، ملتان، بہاولپور (نیوز ڈیسک) صوبہ پنجاب میں دریائے چناب اور دریائے ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب برقرار ہے جبکہ پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ فلڈ فارکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق ہیڈ پنجند پر پانی کی سطح 6 لاکھ 68 ہزار کیوسک سے تجاوز کر گئی ہے جو سمکہ چاچڑاں کی طرف بڑھ رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ہیڈ پنجند پر گزشتہ تین روز سے پانی کے اخراج میں کمی آرہی تھی تاہم گزشتہ رات پانی کی سطح دوبارہ بلند ہونا شروع ہوگئی۔ اسی طرح دریائے سندھ میں تونسہ بیراج کے مقام پر 2 لاکھ کیوسک کے قریب سیلابی ریلا سمکہ چاچڑاں کی جانب بڑھ رہا ہے۔
دریائے چناب کے تریموں بیراج پر پانی کے اخراج میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جہاں سے اس وقت ایک لاکھ 88 ہزار کیوسک سے زائد کا ریلا سندھ کی سمت بڑھ رہا ہے۔ دوسری طرف دریائے ستلج کے گنڈا سنگھ والا کے مقام پر بھی اونچے درجے کی سیلابی کیفیت برقرار ہے جہاں پانی کی سطح 1 لاکھ 82 ہزار کیوسک سے زائد ہے۔ حکام کے مطابق بھارت کی جانب سے مسلسل تین روز سے ستلج میں پانی چھوڑا جا رہا ہے جس سے صورتحال سنگین بنی ہوئی ہے۔
زرعی معیشت کو نقصان
سیلاب نے پنجاب کی زرعی معیشت کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر 21 لاکھ 25 ہزار 838 ایکڑ رقبہ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوئیں۔
کپاس کی 1 لاکھ 10 ہزار 850 ایکڑ فصل بہہ گئی۔
چاول کی 9 لاکھ 70 ہزار 929 ایکڑ فصل زیرِ آب آگئی۔
مکئی کی 1 لاکھ 86 ہزار 419 ایکڑ فصل متاثر ہوئی۔
گنے کی 2 لاکھ 20 ہزار 344 ایکڑ فصل تباہ ہوئی۔
چارے کی 4 لاکھ 500 ایکڑ اور سبزیوں کی 1 لاکھ 15 ہزار 260 ایکڑ پر کھڑی فصلیں بھی سیلاب کی نذر ہو گئیں۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پانی کی سطح کے مطابق ایکڑ فصل
پڑھیں:
پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
لاہور: پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کردی گئی۔محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق صوبہ بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اُڑانے پر مکمل پابندی برقرار ہے، دفعہ 144 کے تحت آؤٹ ڈور ڈرون اڑانے پر عائد پابندی میں 30 روز کی توسیع کر دی گئی ہے۔حکومت پنجاب نے یہ فیصلہ سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہالز اور مارکیز کے اندر تقریبات کے دوران چھوٹے ڈرون کے محدود استعمال کی اجازت ہے، جبکہ اندرونی تقریبات میں ڈرون کے محفوظ استعمال کی ذمہ داری منتظمین پر عائد ہوگی۔حکومتی ہدایت کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلیجنس ایجنسیاں اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی اور وہ اپنے فرائض کے مطابق ڈرون سمیت دیگر ٹیکنالوجی استعمال کر سکیں گی۔