عمران خان کیخلاف ہرجانہ کیس، وزیراعظم شہباز شریف کی جلد جرح مکمل کرنے کی استدعا
اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT
عمران خان کیخلاف ہرجانہ کیس، وزیراعظم شہباز شریف کی جلد جرح مکمل کرنے کی استدعا WhatsAppFacebookTwitter 0 12 September, 2025 سب نیوز
لاہور(سب نیوز)وزیراعظم شہباز شریف نے عمران خان کے خلاف ہرجانے کے کیس میں جلد جرح مکمل کرنے کی استدعا کر دی۔
وزیراعظم شہباز شریف کی بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف 10 ارب روپے ہرجانے کے دعوے پر سماعت سیشن کورٹ لاہور میں ہوئی۔بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے پوچھا کیا آپ نے لیگل نوٹس بھجوایا تھا؟ جس پر شہبازشریف کے وکیل نے جواب دیا جی میں نے لیگل نوٹس بھیجا تھا، کوریئر کمپنی کے ذریعے لیگل نوٹس ارسال کیا گیا تھا۔ویڈیو لنک پر موجود وزیراعظم شہباز شریف نے کہا میں کل خصوصی دورے پر قطر میں تھا، اس کیس کے لیے رات کو واپس آیا ہوں، جج صاحب آپ بھی مصروف ہیں، دیگر کیسز بھی نمٹانے ہوتے ہیں۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ملک میں سیلابی صورتحال ہے، سیلاب اب سندھ میں داخل ہو رہا ہے، صوبے اور وفاق نے کس طرح مل کر کام کرنا ہے، زرعی ایمرجنسی کا اعلان کیا، آج بھی ایک گھنٹے سے آپ کے سامنے حاضر ہوں، اس کیس پر جرح مکمل کر لیں۔وکیل بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ لیگل نوٹس بھجوانے کی رسیدوں پر آپ کا نام نہیں ہے، جس پر شہباز شریف نے کہا کہ جی درست ہے میرے وکیل کا نام ہے جو رسیدیں ہیں وہ لیگل ریکارڈ کا حصہ ہیں۔
عمران خان کے وکیل نے کہا کہ رسیدوں پر یہ بھی نہیں لکھا یہ لیگل نوٹس کس شخص نے وصول کیا، جس پر شہباز شریف نے جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی رسیدیں ہیں وہ آپ کے سامنے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسیلابی صورتحال کے پیش نظرملک بھر میں ایم ڈی کیٹ امتحان کا شیڈول تبدیل سیلابی صورتحال کے پیش نظرملک بھر میں ایم ڈی کیٹ امتحان کا شیڈول تبدیل برطانیہ کا پاکستان میں سیلاب متاثرین کیلئے ایک ارب روپے سے زائد ہنگامی امداد کا اعلان دوحہ پر اسرائیلی حملہ، سلامتی کونسل میں پاکستان اور اسرائیل میں تلخ جملوں کا تبادلہ آئی ایم ایف مذاکرات، ایف بی آر کو 2 ہفتوں میں 1100 ارب اکٹھے کرنے کا چیلنج درپیش بیوی کا نان و نفقہ نکاح کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے، رخصتی سے مشروط نہیں، سپریم کورٹ ایک ہفتے میں مہنگائی میں 0.2فیصد کمی،سالانہ شرح 5.03فیصد ہوگئی
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: وزیراعظم شہباز شریف
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔