ایمان مزاری بیٹیوں کی طرح ہے، بڑا ہونے کے ناطے سمجھا رہا تھا، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ
اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے کہا ہے کہ ایمان مزاری میری بیٹیوں کی طرح ہے، میں تو بطور چیف جسٹس اور بڑا ہونے کے ناطے انہیں سمجھا رہا تھا، میری بات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کر کے طوفان کھڑا کر دیا گیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے ایک کیس کی سماعت کے دوران گزشتہ روز کمرہ عدالت میں ایمان مزاری ایڈوکیٹ کے ساتھ تلخ کلامی والے واقعے کی وضاحت کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ایمان مزاری میری بیٹیوں کی طرح ہے، میں کل اسے سمجھا رہا تھا۔
ان کا کہناتھاکہ میں نے کہا آپ میرے فیصلوں سے اختلاف کر سکتی ہیں، ذات پر بات نہ کرتیں، میں نے تو نہیں کہا کہ میں پکڑ لوں گا، اِس بات کو کل سے پھیلایا جا رہا ہے، ہادی صاحب کھڑے تھے میں نے کہا انہیں پکڑ کر لے جاؤ ورنہ توہینِ عدالت کی کارروائی کروں گا، توہینِ عدالت کی کارروائی ہوئی تو بچی کا کیرئیر خراب ہو جائے گا۔
ان کا مزید کہنا تھاکہ میں نے بچوں کی طرح سمجھایا لیکن وہ سمجھ نہیں رہی تھی، بار بار کہہ رہی تھی کہ بنیادی حقوق، کیا اِس کورٹ کے بنیادی حقوق نہیں ہیں؟
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایمان مزاری چیف جسٹس کی طرح
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔