امریکی ریپبلکن سینیٹر بل ہیگرٹی نے ایک حیران کن دعویٰ کیا ہے کہ چین نے بھارت کے ساتھ سرحدی کشیدگی کے دوران بھارتی فوجیوں کے خلاف برقی مقناطیسی ہتھیار استعمال کیے جن سے فوجی پگھل گئے۔

یہ بھی پڑھیں: چین اور بھارت ایک دوسرے کو حریف نہیں، شراکت دار سمجھیں، چینی وزیر خارجہ

ڈی ڈبلیو کی رپورٹ کے مطابق سینیٹر کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ تقریباً 5 سال قبل ایک سرحدی تصادم کے دوران پیش آیا تھا۔

اگرچہ انہوں نے گلوان وادی یا مشرقی لداخ کا براہ راست ذکر نہیں کیا تاہم قرائن بتاتے ہیں کہ ان کا اشارہ سنہ 2020 کے معروف گلوان تصادم کی طرف تھا جہاں جھڑپ میں بھارت کے 20 فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

سینیٹر کا بیان سوشل میڈیا پر وائرل

بل ہیگرٹی کا یہ بیان ایک ویڈیو کی شکل میں سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے جسے بھارتی میڈیا نے بھی نمایاں طور پر نشر کیا ہے۔ ویڈیو میں سینیٹر کہتے ہیں کہ چین اور بھارت کے درمیان ایک طویل عدم اعتماد کی تاریخ ہے۔

مزید پڑھیے: چینی فوج کی تاریخی پریڈ، نریندر مودی شرکت سے کیوں محروم ہوئے؟

انہوں نے کہا کہ تقریباً 5 سال قبل دونوں ممالک ایک متنازعہ سرحد پر نبرد آزما تھے اور چین نے بھارتی فوجیوں کو حقیقتاً پگھلانے کے لیے برقی مقناطیسی ہتھیار استعمال کیے۔

چین بھارت تعلقات اور امریکی ٹیرف

امریکی سینیٹر کے اس دعوے کو اس تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے کہ امریکی ٹیرف پالیسیوں کے باعث بھارت چین سے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ حال ہی میں امریکا نے بھارت پر درآمدی محصولات میں اضافہ کیا اور روسی تیل کی خریداری پر 25 فیصد اضافی جرمانہ بھی عائد کیا۔

اسی دوران بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نےایس سی او  سربراہی اجلاس میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی اور اس ملاقات کے کچھ ہی دن بعد یہ بیان سامنے آیا ہے۔

گلوان وادی کی جھڑپ: اب تک کی تفصیلات

سنہ 2020 میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر بھارت اور چین کے درمیان کئی دہائیوں کی بدترین کشیدگی دیکھنے میں آئی۔

جون میں گلوان وادی میں دونوں ملکوں کی فوجیں تقریباً 7 گھنٹے تک دست بدست لڑائی میں مصروف رہیں، جس میں فائرنگ نہیں ہوئی۔ اس جھڑپ میں بھارت کے 20 فوجی ہلاک ہوئے جبکہ چین نے بھی بعد میں چند ہلاکتوں کی تصدیق کی۔

مزید پڑھیں: بھارتی فالس فلیگ کا نیا ایڈیشن، پاکستان مخالف پروپیگنڈا پھر بے نقاب

بھارتی میڈیا کے مطابق جھڑپ میں لاٹھیاں، کیل دار ڈنڈے اور خاردار تاریں استعمال ہوئیں تاہم کسی بھی فریق نے آتشیں ہتھیار کے استعمال کا اعتراف نہیں کیا۔

چین کی جانب سے کوئی ردعمل نہیں آیا

اب تک چین نے امریکی سینیٹر کے اس بیان پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ یہ دعویٰ کسی امریکی اعلیٰ سطحی رہنما کی طرف سے پہلا موقع ہے جب گلوان جھڑپ میں برقی مقناطیسی ہتھیار کے استعمال کا ذکر کیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی ریپبلکن سینیٹر بل ہیگرٹی چینی فوجی چینی فوجیوں کے ہاتھوں بھارتی فوجیوں کی پٹائی چینیوں کے ہاتھوں بھارتیوں کی پٹائی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: چینی فوجی بھارتی فوجی بھارت کے جھڑپ میں چین نے

پڑھیں:

پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ

 ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔

 سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
  • ایران کے بحرین اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر ڈرون حملے، طیارہ گرانے کا دعویٰ
  • ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان