عمران خان اور بشریٰ بی بی کے حق میں اقوام متحدہ کے اسپیشل رپورٹر کو ہنگامی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 13th, September 2025 GMT
عمران خان اور بشریٰ بی بی کے حق میں اقوام متحدہ کے اسپیشل رپورٹر کو ہنگامی اپیل WhatsAppFacebookTwitter 0 13 September, 2025 سب نیوز
لاہور:بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے لیے بین الاقوامی قانونی ٹیم نے اقوام متحدہ کے اسپیشل رپورٹر برائے تشدد کے سامنے ایک ہنگامی اپیل دائر کر دی ہے۔
ترجمان تحریک انصاف پنجاب علی عمران کے مطابق یہ اپیل بانی پی ٹی آئی کی جانب سے ان کے بیٹوں قاسم خان اور سلیمان خان نے جمع کرائی ہے، جب کہ بشریٰ بی بی کی طرف سے ان کی بہن مریم وٹو نے پیش کی۔ اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں کو جیل میں غیر انسانی اور بنیادی انسانی حقوق کے منافی حالات کا سامنا ہے۔
اپیل کے متن میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو طویل تنہائی میں قید رکھا گیا ہے، انہیں طبی سہولتوں سے محروم کر دیا گیا ہے، ناقص خوراک دی جا رہی ہے اور اہل خانہ و وکلا سے ملاقاتوں پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔
اسی طرح بشریٰ بی بی کو بھی جیل میں نامناسب اور غیر انسانی ماحول کا سامنا ہے، جس کے باعث ان کی صحت متاثر ہو رہی ہے اور علاج و معالجے کی سہولتیں فراہم نہیں کی جا رہیں۔
بین الاقوامی قانونی ٹیم نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کی فوری تحقیقات کرے اور بانی پی ٹی آئی و بشریٰ بی بی کی فوری رہائی کو یقینی بنایا جائے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمریم نواز کا رحیم یار خان کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ ،گھروں کی بحالی کی یقین دہانی مریم نواز کا رحیم یار خان کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ ،گھروں کی بحالی کی یقین دہانی روس میں 7.4 شدت کے زلزلے سے زمین لرز اُٹھی امریکا نے 32 اداروں کو تجارتی پابندیوں کی فہرست میں شامل کردیا خیبر پختونخوا کے ورلڈ بینک منصوبے میں 10 کروڑ 60 لاکھ روپے کا بڑا فراڈ نیپال میں معمولاتِ زندگی بحال: عارضی سیٹ اپ سے قبل فوجی سربراہ کی ملاقات ایشیا کپ،پاکستان کا عمان کو جیت کیلئے 161رنز کا ہدف
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز