پیشہ فن کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکا، لاہور کی خوبصورتی اجاگر کرنے والا آرٹسٹ پولیس اہلکار سب کے لیے مثال
اشاعت کی تاریخ: 14th, September 2025 GMT
سید زین نہ صرف ایک فرض شناس پولیس آفیسر ہیں بلکہ ایک باکمال فنکار بھی ہیں، دن کے وقت وہ جرائم پر کڑی نظر رکھتے ہیں جبکہ رات کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے لاہور کی خوبصورتی کو کینوس پر امر کر دیتے ہیں۔
سید زین کا فن عام پینٹنگز سے بالکل مختلف ہے۔ وہ سونے کے باریک ورق (Gold Leaf) کو استعمال کرکے تاریخی عمارتوں اور قدرتی مناظر کو نہایت خوبصورتی سے پیش کرتے ہیں۔
شالیمار باغ کی نزاکت ہو یا بادشاہی مسجد کی عظمت، ان کے فن پارے دیکھنے والوں کو لاہور کی تاریخ میں جھانکنے کا موقع بھی دیتے ہیں اور ایک نئی جدت کا احساس بھی دلاتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ صرف گولڈ لیف پینٹنگ ہی نہیں بلکہ اسکیچنگ میں بھی کمال مہارت رکھتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں سے بنے ہوئے اسکیچ نہایت باریک بینی اور مہارت کا مظہر ہیں۔
ان کی یہ تخلیقی صلاحیت پیغام دیتی ہے کہ اگر جذبہ سچا ہو تو کوئی بھی پیشہ فن کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ سید زین مثال ہیں اُن لوگوں کے لیے جو فرض اور شوق دونوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں۔ مزید جانیے مریم مراد کی اس رپورٹ میں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آرٹسٹ پولیس اہلکار پیشہ فن لاہور کی خوبصورتی وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا رٹسٹ پولیس اہلکار پیشہ لاہور کی خوبصورتی وی نیوز لاہور کی
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔