کوہستان میں دھرنا، شاہراہِ قراقرم چوتھے روز بھی بند
اشاعت کی تاریخ: 14th, September 2025 GMT
اپر کوہستان کے علاقے ہربن میں عوامی دھرنا چوتھے روز بھی جاری ہے، جس کے باعث شاہراہِ قراقرم ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہے۔
پولیس کے مطابق ہربن اور بھاشا کے رہائشی اپنے مطالبات کے حق میں شاہراہ پر دھرنا دیے ہوئے ہیں اور 28 اگست سے واپڈا کی گاڑیوں کو بھی سڑک استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:گلیشیائی جھیل پھٹنے سے گلگت بلتستان میں تباہی، شاہراہ قراقرم متاثر
دھرنا شرکاء کا کہنا ہے کہ حکومت نے تاحال کوئی تعمیری اقدام نہیں اٹھایا، جبکہ ان کے مطالبات میں دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ کے حدود میں بھاشا تا غندلو تھور تک کی اراضیات کے معاوضے کی یکمشت ادائیگی اور پرانی قیمتیں مسترد کرتے ہوئے نئی ریٹ کے مطابق معاوضہ شامل ہے۔
شاہراہِ قراقرم کی بندش کے باعث مسافروں کو بابوسر ناران روڈ استعمال کرنا پڑ رہا ہے، تاہم پولیس کے مطابق اس سڑک پر زیادہ چڑھائی اور اترائی ہونے کی وجہ سے ہیوی ٹریفک، بسیں اور مال بردار گاڑیوں کو چلنے کی اجازت نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں:شاہراہ قراقرم پر کار حادثے کا شکار، 3 افراد جاں بحق، ایک زخمی
اس صورتِ حال کے باعث مقامی افراد اور مسافروں کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان کی ٹرانسپورٹ کمپنیاں بھی مشکلات سے دوچار ہیں۔
تاجروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر راستہ جلد نہ کھلا تو اشیائے خورونوش، دوائیوں، سبزیوں اور دیگر ضروری سامان کی شدید قلت پیدا ہوسکتی ہے۔
تاجر برادری اور عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر شاہراہِ قراقرم کو بحال کیا جائے اور اراضی مالکان کے جائز مطالبات تسلیم کیے جائیں تاکہ مزید مشکلات نہ بڑھیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
احتجاج تاجر شاہراہ قراقرم گلگت بلتستان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تاجر شاہراہ قراقرم گلگت بلتستان
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔