پنجاب میں مون سون کے گیارہویں اسپیل کا الرٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 14th, September 2025 GMT
پنجاب میں ایک مرتبہ مون سون بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے صوبے بھر میں مون سون بارشوں کے گیارہویں اسپیل کا الرٹ جاری کردیا ہے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب میں 16 سے 19 ستمبر تک دریاؤں کے بالائی علاقوں میں بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
پی ڈی ایم اے پنجاب نے متوقع بارشوں کے پیش نظر صوبے بھر کے کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔
16 تا 19 ستمبر تک دریاؤں کے بالائی حصوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان، شہریوں کو احتیاط اور تازہ ترین صورتحال سے باخبر رہنے کی ہدایت۔#PDMAPunjab #WeatherAdvisory #FloodSafety #Punjab #StaySafe pic.
— PDMA Punjab Official (@PdmapunjabO) September 14, 2025
پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے نے مزید کہا کہ شہریوں سے التماس ہے کہ خراب موسم کی صورتحال میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور دریاؤں کے اطراف سیرو تفریح سے گریز کریں۔
Post Views: 7
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پی ڈی ایم اے
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔