‘صرف 6 مہینے حکومت میں رہیں گے،’ نئی نیپالی وزیراعظم نے ہلاک مظاہرین کو ‘شہید’ قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, September 2025 GMT
نیپال کی نئی عبوری وزیرِاعظم سوشیلا کرکی نے کہا ہے کہ وہ یہ عہدہ زیادہ سے زیادہ 6 ماہ کے لیے سنبھالیں گی۔
سنگھ دربار میں حلف اٹھانے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں کرکی نے کہا کہ وہ اس منصب کی خواہشمند نہیں تھیں بلکہ عوامی تحریک اور عوامی آوازوں کے نتیجے میں انہیں یہ ذمہ داری قبول کرنا پڑی۔ انہوں نے کہا کہ 5 مارچ کو ہونے والے عام انتخابات کے بعد نئی حکومت کو اقتدار سونپ دیں گی۔
یہ بھی پڑھیے: نیپال کی پہلی خاتون وزیراعظم کا حلف، نوجوانوں کی بغاوت کے بعد سیاسی نقشہ بدل گیا
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ‘جنریشن زی’ کے سوچ کے مطابق کام کرنا ہوگا۔ یہ نسل بدعنوانی کے خاتمے، شفاف حکمرانی اور معاشی مساوات کا مطالبہ کر رہی ہے۔
عبوری حکومت نے نیپال کی حالیہ تحریک میں جاں بحق افراد کو شہید قرار دیا ہے اور ہر متاثرہ خاندان کے لیے 10 لاکھ نیپالی روپے مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔ حالیہ مظاہروں کے دوران 72 افراد ہلاک ہوئے جن میں 59 مظاہرین، 10 قیدی اور 3 سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔
وزیرِاعظم کرکی نے اپنے خطاب میں کہا کہ تحریک کے دوران ہونے والی آتش زدگی اور توڑ پھوڑ کے واقعات ‘سوچی سمجھی سازش’ معلوم ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ’جنریشن زی‘ کی بغاوت، نیپال کا سبق جو ہمیں بھی سیکھنا چاہیے
سوشیلا کرکی نے آج وزارتِ عظمیٰ کا باقاعدہ چارج سنبھالا۔ انہیں نیپالی صدر رام چندر پاؤڈیل نے جمعہ کی رات اس عہدے کے لیے مقرر کیا تھا۔ نیپال میں حکومت مخالف مظاہرین کی بڑی تعداد نوجوانوں پر مشتمل تھی جس کی وجہ سے اسے جنریشن زی احتجاج کا نام دیا گیا۔ عبوری وزیراعظم کی تقرری اُس وقت عمل میں آئی جب پرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں سابق وزیرِاعظم کے پی شرما اولی کی حکومت گر گئی۔
عہدہ سنبھالنے کے بعد ان کا پہلا اقدام اسپتالوں میں جا کر زخمیوں کی عیادت کرنا تھا۔ انہوں نے ان کی صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا اور یقین دہانی کرائی کہ حکومت ان کے مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات کرے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
احتجاج جنریشن زی کرپشن نیپال.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: نیپال کرکی نے کے لیے کے بعد
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔