ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ: ارشد ندیم کی شاندار نتائج کے لیے قوم سے دعاؤں کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 16th, September 2025 GMT
پاکستان کے نامور جیولن تھرو ایتھلیٹ اور بین الاقوامی و ایشین چیمپئن ارشد ندیم نے ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں شرکت کے لیے ٹوکیو پہنچ کر ایونٹ میں شاندار کارکردگی کے لیے فینز سے دعاؤں کی درخواست کر دی ہے۔
ارشد ندیم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ آپ سب کو معلوم ہے کہ میں ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ کے لیے ٹوکیو آیا ہوں۔ کل انشاءاللہ پاکستانی وقت کے مطابق 4:45 میرا کوالیفائنگ راؤنڈ ہےمیری دعا ہے کہ میں اچھا پرفارم کروں اور فائنل میں جگہ بناؤں۔
کل انشاءاللہ پاکستانی وقت کے مطابق 4:45pm میرا کوالیفائنگ راؤنڈ ہے، آپ سب سے دعاؤں کی درخواست ہے۔ pic.
— Arshad Nadeem (@ArshadOlympian1) September 16, 2025
واضح رہے کہ ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ کا فائنل 18 ستمبر 2025 کو منعقد ہوگا، جس میں دنیا بھر کے نامور ایتھلیٹس شرکت کریں گے۔ ارشد ندیم نے 2022 میں کامن ویلتھ گیمز میں گولڈ میڈل جیت کر تاریخ رقم کی تھی۔ اور وہ پاکستان کے پہلے اتھلیٹ ہیں جنہوں نے جیولن تھرو میں 90 میٹر کی حد کے قریب پھینکنے کی صلاحیت دکھائی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ارشد ندیم ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ورلڈ ایتھلیٹکس کے لیے
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز