ایف آئی اے ٹیم کی اڈیالہ جیل آمد، بانی پی ٹی آئی سے ایک گھنٹہ پوچھ گچھ
اشاعت کی تاریخ: 16th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راولپنڈی:۔ فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کی ٹیم نے اڈیالہ جیل کا دورہ کیا اور بانی پی ٹی آئی سے ان کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” اکاو ¿نٹ کے حوالے سے تفتیش کی۔
ذرائع کے مطابق ایف آئی اے ٹیم کی قیادت ڈائریکٹر ایاز خان کر رہے تھے۔ ٹیم نے بانی پی ٹی آئی سے تقریباً ایک گھنٹے تک سوال و جواب کیا۔
اس دوران ان کے ایکس اکاو ¿نٹ پر مبینہ سرگرمیوں اور اس کے استعمال کے حوالے سے تفصیلی پوچھ گچھ کی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے کی جانب سے تفتیش کا مقصد بانی پی ٹی آئی کے ایکس اکاو ¿نٹ کے حوالے سے مختلف شکوک و شبہات کی جانچ پڑتال اور مزید حقائق سامنے لانا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی ایف آئی اے
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔