WE News:
2026-06-03@01:43:19 GMT

اغوا کے ساڑھے 3 ماہ بعد اسسٹنٹ کمشنر کیچ بازیاب

اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT

اغوا کے ساڑھے 3 ماہ بعد اسسٹنٹ کمشنر کیچ بازیاب

بلوچستان کے ضلع کیچ سے رواں سال 4 جون کو اغوا ہونے والے اسسٹنٹ کمشنر محمد حنیف نورزئی ساڑھے 3 ماہ بعد بازیاب ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں:زیارت سے اغوا ہونے والے اسسٹنٹ کمشنر اور بیٹے کی ویڈیو منظر عام پر، رہائی کے لیے مطالبات تسلیم کرنے کی اپیل

ضلعی انتظامیہ کے مطابق محمد حنیف نورزئی کو تحصیل تمپ میں چھوڑا گیا، جہاں سے انہیں تُربت منتقل کرنے کے بعد خصوصی طیارے کے ذریعے کوئٹہ پہنچایا گیا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان کی صحت تسلی بخش ہے۔

Assistant Commissioner Recovered After Abduction in Balochistan
Assistant Commissioner Muhammad Hanif Noorzai, abducted over three months ago from Kech district, Balochistan, has been safely recovered.

Officials confirm he was released in Tump and transported to Turbat, then… pic.twitter.com/QFJxUCc1uw

— Farhan Khan (@TheFarhanAKhan) September 17, 2025

محمد حنیف نورزئی کو اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ اپنی اہلیہ اور ساتھیوں کے ہمراہ سفر کر رہے تھے۔ اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ نے قبول کی تھی۔

 تاہم یہ واضح نہیں کہ ان کی رہائی کسی تاوان یا کسی اور مطالبے کے نتیجے میں عمل میں آئی۔

یہ بھی پڑھیں:خاران میں فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق، 4 اغوا

واقعے کے بعد مغوی کے اہل خانہ اور حکومت کی جانب سے ان کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری تھیں، جو اب رنگ لے آئیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسسٹنٹ کمشنر کیچ اغوا بلوچستان تحصیل تمپ محمد حنیف نورزئی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسسٹنٹ کمشنر کیچ اغوا بلوچستان تحصیل تمپ محمد حنیف نورزئی محمد حنیف نورزئی

پڑھیں:

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔

سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔

9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔

نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود