اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ میں اپنے عزیز بھائی شہزادہ محمد بن سلمان، ولی عہد اور سعودی عرب کے وزیر اعظم کی جانب سے پرجوش اور والہانہ استقبال پر بہت متاثر ہوا ہوں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں وزیر اعظم نے کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے پرجوش اور والہانہ استقبال پر بہت متاثر ہوا ہوں ۔سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کے تاریخی استقبال نے دل جیت لیے۔

ان کا کہنا تھا کہ میری آمد پر سعودی شاہی فضائیہ کے طیاروں کی جانب سے سے والہانہ استقبال حیران کن تھا، سعودی مسلح افواج کے چاک و چوبند دستے نے سلامی پیش کی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ یہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان پائے جانے والے دیرینہ محبت اور باہمی احترام کا مظہر ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایک ملک پر حملہ دونوں پر تصور ہوگا، مشترکہ جواب دیا جائے گا، پاکستان اور سعودی عرب میں دفاعی معاہدہ طے

شہباز شریف نے کہا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بند سلمان سے میری نہایت خوشگوار اور مفید گفتگو ہوئی جس میں علاقائی چیلنجز پر تبادلہ خیال اور دوطرفہ تعاون کے فروغ پر بات چیت ہوئی۔

وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ دل کی گہرائیوں سے شہزادہ محمد بن سلمان کے وژن اور قیادت کی تعریف کرتا ہوں۔پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سرمایہ کاری۔تجارت اور کاروباری روابط کو وسط دینے میں انکی خصوصی دلچسپی قابل تعریف ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان حرمین شریفین کا محافظ بن گیا، پاک سعودی دفاعی معاہدے کے اہم نکات

شہباز شریف نے کہا کہ میری دعا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کی دوستی فروغ پاتی رہے اور عظمت کی نئی بلندیوں کو چھوئے۔ انشاءاللہ!

Deeply touched by the heart warming welcome, accorded to me by my dear brother HRH Prince Mohammed bin Salman, Crown Prince and Prime Minister of Saudi Arabia, on my official visit to Riyadh.

From the unprecedented escort provided to my aircraft by the Royal Saudi airforce jets… pic.twitter.com/RZvkOSQbF1

— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) September 18, 2025


ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر وزیراعظم شہباز شریف گزشتہ روز مملکت سعودی عرب کے سرکاری دورے پر اسلام آباد سے ریاض پہنچے جہاں سعودی F-15 لڑاکا طیاروں نے وزیراعظم کا شاندار استقبال کیا، دونوں رہنماؤں نے دفاعی معاہدے پر دستخط کردیے جس کا مقصد پاکستان اور سعودی عرب کی خودمختاری و سالمیت میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہے۔

معاہدے کے تحت پاکستان اب حرمین شریفین کے تحفظ اور سعودی عرب کی سلامتی میں ایک اسٹریٹیجک پارٹنر بن گیا ہے۔

اس معاہدہ کی تیاری اور تکمیل میں آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کلیدی کردار نمایاں ہے

یہ معاہدہ دونوں ممالک کے کئی دہائیوں پر محیط فوجی تعاون، مشترکہ مشقوں اور دفاعی تعلقات کو ایک باقاعدہ اسٹریٹیجک شراکت داری میں ڈھالتا ہے۔

اس معاہدہ سے نہ صرف خطے میں امن اور عالمی سلامتی کو فروغ ملے گا بلکہ اقتصادی، سفارتی اور عسکری میدانوں میں بھی وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔

معاہدے کے اہم نکات

معاہدے کے تحت پاکستان، سعودی عرب کے ساتھ ملکر حرمین شریفین کا تحفظ کرے گا، پاکستان یہ اعزاز حاصل کرنے والا پہلا ملک ہے جو مقدس مقامات مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ کے دفاع میں سعودی عرب کے شانہ بشانہ ہوگا۔

یہ معاہدہ دفاع کو مضبوط بنانے اور دونوں ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کی تیاری اور انضمام کو بڑھانے کا مقصد رکھتا ہے ، جس کی شقوں کے تحت کسی بھی ملک پر بیرونی حملہ دونوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا۔

معاہدے پر دستخط دونوں ممالک کے گہرے دوطرفہ تعلقات اور سیکورٹی تعاون کی توثیق کرتے ہیں، یہ معاہدہ امن کے فروغ اور علاقائی و عالمی سلامتی کو مستحکم کرنے کے مشترکہ مقاصد کی بھی عکاسی ہے۔

اعلامیے کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ دونوں کے لیے سیکورٹی، معیشت اور سفارت کاری میں انتہائی سود مند ثابت ہوگا۔

Post Views: 3

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پاکستان اور سعودی عرب کے سعودی عرب کی دونوں ممالک شہباز شریف معاہدے کے نے کہا کہ ولی عہد کی جانب

پڑھیں:

علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق

ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔

متعلقہ مضامین

  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم